کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت غربی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست ابتدائی سماعت کے بعد مسترد کردی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے کیونکہ پاکستانی قوانین کے تحت ایسے جرم کی سماعت ممکن نہیں جو ملک کی حدود سے باہر پیش آیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی شہریت اب صرف پیدائش سے نہیں ملے گی، سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیدیا

درخواست گزار جمشید علی خواجہ کے وکیل جعفر عباس جعفری نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران میں بمباری کی گئی، جس سے خطے میں بدامنی پھیلی اور لاکھوں پاکستانی شہری متاثر ہوئے۔ وکیل نے کہا کہ چونکہ امریکہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا رکن نہیں، اس لیے درخواست گزار نے پاکستان کی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

 انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ویانا کنونشن 1961 کے تحت اگرچہ ہیڈ آف دی اسٹیٹ کو گرفتاری سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، تاہم ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کی گرفتاری نہیں بلکہ صرف مقدمے کے اندراج کی استدعا کررہے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی تعزیرات کی دفعات 124، 125، 126 اور 228 کے تحت مقدمہ بنتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ وہ ویانا کنونشن کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔ جواب میں وکیل نے کہا کہ وہ اس کنونشن سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، اور یہی استثنیٰ گرفتاری تک محدود ہے، قانونی کارروائی سے نہیں روکتا۔

یہ بھی پڑھیں: شام پر عائد بیشتر امریکی پابندیاں ختم، صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے

سرکاری وکیل نے دلائل میں کہا کہ پاکستان کا قانون اور ویانا کنونشن دونوں ہی کسی بھی ملک کے سربراہِ مملکت کو استثنیٰ دیتے ہیں، اور ایسے شخص کے خلاف مقدمہ نہ صرف ناقابلِ سماعت ہے بلکہ قانونی طور پر بے بنیاد بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں، خصوصاً ڈاکس تھانے یا ضلع غربی کی حدود میں ایسا کوئی جرم وقوع پذیر نہیں ہوا ہے جو اس عدالت کے دائرہ اختیار میں آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں بمباری ہوئی اور یہ بات قانوناً غیر منطقی ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ پاکستان میں درج ہو۔

سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمات درج ہونے لگیں تو پھر نریندر مودی اور نیتن یاہو جیسے دیگر عالمی رہنماؤں کے خلاف بھی پاکستان میں مقدمات دائر کیے جانے چاہئیں، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو معاونت کے لیے طلب کیا تھا، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کیا، تاہم عدالت نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی قریب؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

دونوں وکلا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کو امریکی فیڈرل قانون کے تحت بھی استثنیٰ حاصل ہے اور ویانا کنونشن 1961 کے تحت بھی، اور پاکستانی قوانین صرف انہی جرائم کے ٹرائل یا انکوائری کی اجازت دیتے ہیں جو پاکستان میں پیش آئیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بھی 2013 میں پشاور ہائیکورٹ نے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف کوئی ایسا حکم جاری نہیں کیا تھا، لہٰذا اس مقدمے کی نظیر بھی موجود نہیں۔

عدالت نے کہا کہ مقدمہ نہ تو قابلِ سماعت ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے اسے خارج کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل امریکا ایران پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کراچی گرفتاری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ کراچی گرفتاری ڈونلڈ ٹرمپ کے درخواست گزار ویانا کنونشن پاکستان میں سرکاری وکیل کہ پاکستان امریکی صدر نے کہا کہ عدالت نے انہوں نے کے خلاف وکیل نے یہ بھی کے تحت

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی