Juraat:
2026-07-24@05:39:52 GMT

مقبوضہ وادی میں مسلم تشخص خطرے میں

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

مقبوضہ وادی میں مسلم تشخص خطرے میں

ریاض احمدچودھری

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کی سرپرستی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت جموں و کشمیرکی مسلم شناخت کو مٹانے اور پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کے جذباتی اور تاریخی رشتوں کو کمزور کرنے کی سرتوڑ کوششیں کررہی ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ اگست 2019میں دفعہ370اور 35A کی منسوخی اور حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کشمیر کے منفرد تشخص کو ختم کرنے اور ظلم وجبر کے ذریعے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے منظم بھارتی منصوبے کا حصہ ہیں۔انہوں نے گرفتاریوں، جائیدادوں پر قبضے اور آزادی پسندوں کو ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر یوں کو انصاف کی فراہمی کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ناممکن ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے امریکہ اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں مدد کریں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ کی زیر قیادت جموں و کشمیر مسلم لیگ نے دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے شبیر شاہ کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں نیشنل کانفرنس کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام ایک خط میں شبیر شاہ کے لیے موثر علاج معالجہ کا مطالبہ کیا جنہیں ڈاکٹروں نے سرجری کا مشورہ دیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شبیر شاہ کو جیل میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دارمودی حکومت ہوگی۔ انہوں نے حریت رہنما کو پیرول پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کی مذمت کی۔فاروق عبداللہ نے مقبوضہ علاقے میں جاری ظالمانہ کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو اس کی مسلم اکثریتی شناخت کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے۔
ادھر ورلڈ مسلم کانگریس(ڈبیلیو ایم سی) نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے فوری طور پر ایک کمیشن تشکیل دے۔ ڈبلیو ایم سی کے نمائندے الطاف حسین وانی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 59ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر بھارت کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی اور تاریخی اور زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم پرمحض تشویش کے بجائے مظلوم کشمیریوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس کارروائی کرے۔
آر ایس ایس بھارت کی بدنامِ زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے جو راشٹریہ سیوک سنگھ کا مخفف ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے باضابطہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن اس تسلیم شدہ امر میں بھی یہ امر نہایت قابلِ غور اور معنی خیز ہے کہ امریکہ ہو یا کوئی یورپی ملک، کسی نے بھی آج تک اِسے دہشت گردی کے عالمی قوانین کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی ا?س فہرست میں شامل نہیں کیاجو اقوام متحدہ کے چارٹر اور امریکہ کی نافذ العمل پالیسی کے تحت مرتب کی گئی ہے۔آر ایس ایس ایک بنیاد پرست ہندو تنظیم ہے جو دنیا میں ہندو ازم کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کا پہلا ماٹو بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ مختلف ذرائع او ر طریقے اختیار کر کے یہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندو ازم کی طرف لا رہے ہیں۔ مودی سرکار نے آر ایس ایس کے ذریعے مقبوضہ وادی میں ہندوؤں کو بسانے کی سعی بھی شروع کر دی ہے تاکہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے اقلیت میں بدل سکیں۔
بھارتی کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے ریاست کیرالہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو انگریزوں سے اس لئے آزادی نہیں ملی کہ وہ سنگھ پریوار کی آئیڈیالوجی کی کالونی بنے۔ بی جے پی اوراس کے وزیراعظم کو صرف ایک ملک ایک زبان اور ایک قائد دکھائی دیتا ہے جو ہمارے ملک کے حوالے سے بنیادی غلط فہمی ہے۔ بھارت پھولوں کے گلدستہ کی طرح ہے۔ ہر ایک پھول کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ وہ سارے گلدستے کی خوبصورتی بڑھاتا ہے۔کسی مخصوص زبان کو اوپر سے تھوپا نہیں جاسکتا،یہ کسی شخص کے دل کے اندر سے نکلتی ہے۔ کیرالا کے کسی شخص سے یہ کہنا کہ تمہاری زبان ہندی سے کم تر ہے، کیرالا کے عوام کی توہین ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت پر اس کے سارے عوام کی حکمرانی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہا اقوام متحدہ آر ایس ایس کہا کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی