Express News:
2026-07-24@07:11:08 GMT

دو فیصلے!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد، من گھڑت اور ثبوت کے بغیر الزامات لگا کر نہ صرف پاکستان پر جنگ مسلط کی بلکہ یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے پاکستان کا پانی بھی روک دیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کا بڑا واضح موقف رہا ہے کہ بھارت کسی بھی صورت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے یہ تاریخی فیصلہ دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی اعلان غیر قانونی ہے۔ کیوں کہ دو طرفہ معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ کوئی فریق یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کر دے اور نہ ہی کوئی فریق یکطرفہ طور پر عدالت کے ثالثی کے دائرہ اختیار کو ختم کر سکتا ہے۔ لہٰذا ثالثی کا عمل جاری رہے گا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ بھارت کی جانب سے متوازی طور پر مقرر کردہ ’’غیرجانبدار ماہر‘‘ کے دائرہ اختیار پر ہندوستان کے موقف کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یہاں واضح رہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب پر پن بجلی منصوبوں کے خلاف دائر مقدمے میں جاری کیا ہے۔ پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے مذکورہ فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پانی، تنازع کشمیر اور دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

عدالتی فیصلے سے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے بیانیے کو تقویت ملی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔ وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر بھارت پر واضح کر دیا کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے۔ افسوس کہ بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کے مذکورہ فیصلے کو ماننے سے نہ صرف انکار کر دیا ہے بلکہ عدالت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی میں 19 دسمبر 1960 کو کراچی میں طے پایا تھا۔ معاہدے پر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستانی صدر جنرل ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کا پانی بھارت کو دیا گیا تھا جب کہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا تھا۔ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ اگر دونوں ممالک میں پانی کے استعمال پر کوئی تنازع پیدا ہوا تو عالمی ثالثی عدالت کے ذریعے اسے حل کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں بھارت نہ تو یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کر سکتا ہے۔ اسے ہر صورت عالمی فیصلوں اور معاہدے پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

بصورت دیگر حالات ایک اور جنگ کی طرف جا سکتے ہیں جیساکہ حکومت پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر متعدد مرتبہ بھارت پر واضح کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور دریاؤں کے بہاؤ کو روکنا جنگ کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں عالمی برادری بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پانی پر دوسری پاک بھارت جنگ کے امکانات کو ختم کیا جاسکے۔

ادھر پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد کی بنیاد پر خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی الاٹ منٹ کے حوالے سے حکومت کی نظرثانی کی تمام اپیلیں منظور کرتے ہوئے عدالت کے 12 جولائی 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس طرح سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اب یہ نشستیں حکمراں اتحاد کی (ن) لیگ، پی پی اور دیگر جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں حکمراں اتحاد کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی جس کے بعد وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق باآسانی قانون سازی کر سکیں گی۔

وزیر اعظم نے آئینی بینچ کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین کی بالادستی اور قانون کی درست تشریح قرار دیا ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین کی غلط تشریح اور پی ٹی آئی کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔ بہرحال عدالتی فیصلے سے پی ٹی آئی کو سخت دھچکا لگا ہے۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اس کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ کے پی کے میں بھی اس کی اکثریت محدود ہونے سے گنڈا پور حکومت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ البتہ حکمران اتحاد مضبوط ہو گیا ہے، جس سے حکومت کے مستحکم ہونے اور پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عالمی ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرتے ہوئے معاہدے پر کہ بھارت کر سکتا سکتا ہے دیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم