چاہتے تو جنگ جاری رکھ کر بھارت کو مزید مزہ چکھا سکتے تھے: وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے تو جنگ جاری رکھ کر بھارت کو مزید مزہ چکھا سکتے تھے لیکن امن پسند ہیں اس لیے دنیا کی بات مان لی۔78 ویں یوم آزادی کے موقع پر نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں معرکہ حق تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔دوسری جانب تقریب میں راحت فتح علی خان ، سجاد علی، حدیقہ کیانی، عاطف اسلم اور کیفی خلیل سمیت نامور گلوکاروں کی پرفارمنس پر شائقین جھوم اٹھے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، پاکستان نے ایسا جواب دیا کہ بھارت دنیا کے سامنے گڑ گڑانے پر مجبور ہو گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ چاہتے تو جنگ جاری رکھ کر بھارت کو مزید مزہ چکھا سکتے تھے لیکن ہم امن پسند ہیں اس لیے دنیا کی بات مان لی اور جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ پاکستان بنانے والا سندھ صوبہ ہے، سندھ صوبہ جشن آزادی کی تقریبات میں بھی آگے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔