ٹرمپ کا ٹیرف وار، مودی چین سے تعلقات بہتر بنانے اور براہِ راست پروازوںکیلئے کوشاں
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
بھارت اور چین جو 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد شدید کشیدہ تعلقات کا شکار رہے، اب آہستہ آہستہ معاشی روابط کی بحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس پیش رفت کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ ہے، جس کے ردعمل میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی برکس ممالک کے ساتھ قربت بڑھانے کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ سفارتی گرمجوشی کی راہ پر گامزن ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق، چین سے قریبی تعلقات رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ مودی حکومت اگلے ماہ چین کے ساتھ براہِ راست پروازیں بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ممکنہ طور پر اس وقت سرکاری طور پر اعلان کی جائے گی جب مودی سات برس بعد چین کا دورہ کریں گے اور 31 اگست کو تیانجن میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر بھارتی مصنوعات پر بھاری جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد نئی دہلی کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی صدر نے نہ صرف بھارت پر ٹیرف دگنا کر دیا بلکہ بھارتی معیشت کو ’مردہ‘ قرار دے کر تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی۔
بیجنگ کے تھنک ٹینک “سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” کے صدر ہنری وانگ کے مطابق، بھارت اور چین اب تعلقات کی بہتری کے “اپ سائیکل” میں داخل ہو چکے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ بطور ترقی پذیر ممالک کے قائدین، دونوں کو باہمی رابطے بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ وانگ کے مطابق، ٹرمپ کی “ٹیرف وار” نے بھارت کو اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو قائم رکھنے کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔
چین، جو خود بھی امریکی تجارتی جنگ کا نشانہ بن چکا ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔ حال ہی میں چین نے بھارت کے لیے یوریا کی ترسیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی ہے، جو کہ تجارتی بحالی کی طرف ایک مثبت اشارہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، بھارتی صنعتکار گوتم اڈانی کا گروپ چین کی معروف الیکٹرک کار ساز کمپنی BYD کے ساتھ شراکت داری کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ بھارت میں بیٹریوں کی پیداوار اور ماحول دوست توانائی کی جانب پیش رفت کی جا سکے۔
مودی حکومت نے حال ہی میں برسوں بعد چینی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے بحال کر دیے ہیں، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ماحول میں بہتری کی علامت ہے۔ چین، امریکہ کے بعد بھارت کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور بھارت کو اپنی صنعتی ترقی کے لیے چینی اجزاء پر انحصار برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط بہتر ہو رہے ہیں، تاہم مکمل اعتماد بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ دونوں ایشیائی طاقتیں ایک دوسرے کو طویل عرصے سے علاقائی حریف سمجھتی آئی ہیں، اور حال ہی میں چین کی جانب سے بھارت کے فوجی تنازع میں پاکستان کو ہتھیار اور انٹیلیجنس سپورٹ فراہم کرنے کے بعد باہمی شکوک میں مزید اضافہ ہوا۔
نئی دہلی کے مطابق، ٹرمپ کی حالیہ سخت رویے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بھارت نے ان کے اس دعوے کی تردید کر دی تھی کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اطلاعات کے مطابق، جون میں مودی اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفون کال میں مودی نے براہِ راست ان دعوؤں کو چیلنج کیا، جس کے بعد واشنگٹن کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔
مودی برکس کے دیگر بانی ارکان جیسے روس اور برازیل سے بھی تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے اگست میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھارت کے دورے کی دعوت دی، جو کہ امریکہ سے بڑھتی خفگی کا مظہر ہے۔
اگرچہ امریکہ نے طویل عرصے سے بھارت کو چین کے خلاف توازن قائم رکھنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اتحادی تصور کیا، لیکن اب ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے نتیجے میں بیجنگ اور نئی دہلی مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چین میں تعینات بھارتی سفیر ژو فیہانگ نے مودی کو ٹیرف کے معاملے پر اخلاقی حمایت کی پیشکش بھی کی ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں نئی لچک کی نشاندہی کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے درمیان ممالک کے کے مطابق بھارت کے رہے ہیں ٹرمپ کی کے ساتھ کے بعد کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔