مقررین نے رئیس امروہوی کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ صاحبِ بصیرت اور ہمہ جہت علمی و ادبی شخصیت تھے، جن کی فکری اور ادبی خدمات آج بھی زندہ ہیں اور نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں، رئیس امروہوی علم، فکر اور ادب کا حسین امتزاج تھے اور ان کی تحریریں آج بھی علمی و ادبی محفلوں میں یاد کی جاتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ معروف شاعر، صحافی اور کالم نگار رئیس امروہوی کی 37ویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں مقررین نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ پروگرام ’’فرزندانِ کراچی‘‘ کے عنوان سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر اہتمام خالقدینا ہال میں منعقد ہوا، جس کی سرپرستی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کی۔ تقریب میں شہر کی نمایاں شخصیات جن میں شکیل عادل زادہ، منور سعید، ڈاکٹر عقیل عباس جعفری، کاظم سعید، شاہانہ رئیس اور لبنیٰ جرار نقوی شامل تھے، بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ مقررین نے رئیس امروہوی کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ صاحبِ بصیرت اور ہمہ جہت علمی و ادبی شخصیت تھے، جن کی فکری اور ادبی خدمات آج بھی زندہ ہیں اور نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رئیس امروہوی علم، فکر اور ادب کا حسین امتزاج تھے اور ان کی تحریریں آج بھی علمی و ادبی محفلوں میں یاد کی جاتی ہیں۔ مقررین نے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میئر مرتضیٰ وہاب کو اس ادبی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تقریب کے انعقاد پر سراہا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رئیس امروہوی کی یاد میں پروگرام کا انعقاد باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ رئیس امروہوی کراچی کا ہی نہیں بلکہ ملک کا قیمتی اثاثہ تھے، ان کے ادبی و فکری ورثے کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ رئیس امروہوی جیسی شخصیات شہر کا سرمایہ ہیں، جن کی خدمات کو تسلیم کرنا نہایت ضروری ہے۔

میئر کراچی نے رئیس امروہوی کے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ رئیس امروہوی نے اپنی علمی و صحافتی خدمات سے ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کا نام پاکستان کی فکری و ادبی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ میئر کراچی نے اعلان کیا کہ خالقدینا ہال، فریر ہال اور دیگر تاریخی عمارتوں کو اب ادبی، ثقافتی اور فکری تقاریب کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تاکہ کراچی کی مثبت شناخت کو اجاگر کیا جاسکے اور نوجوان نسل کو ان کے فکری ورثے سے روشناس کرایا جاسکے۔ انہوں نے شہریوں اور ادبی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ کراچی کی رونقیں بحال کرنے اور شہر کو دوبارہ علم و ادب و ثقافت کا مرکز بنانے میں تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی تقاریب نہ صرف فکری بیداری کو فروغ دیتی ہیں بلکہ سماجی شعور کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ادبی شخصیت میئر کراچی انہوں نے آج بھی کے لیے

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟