سعید احمد:سیلابی صورتحال کے باعث لاہور سے کراچی جانے والی ٹرینوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے۔

 ترجمان ریلوے کے مطابق لاہور سے کراچی جانے والی پاک بزنس ایکسپریس اور شاہ حسین ایکسپریس منسوخ کر دی گئی ہیں۔

مسافروں کو متبادل ٹرینوں میں ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔ پاک بزنس ایکسپریس کے مسافروں کو قراقرم اور کراچی ایکسپریس میں جبکہ شاہ حسین ایکسپریس کے مسافروں کو گرین لائن میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ قراقرم ایکسپریس سہ پہر 3 بجے، کراچی ایکسپریس شام 6 بجے اور گرین لائن رات 11 بجکر 15 منٹ پر لاہور سے روانہ ہوگی، تاہم گرین لائن 2 گھنٹے 25 منٹ تاخیر کا شکار ہے۔

مجھے انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ جیسے تکلیف دہ تجربے سے گزرنا پڑا: دعا ملک

ریلوے حکام کے مطابق قراقرم اور دیگر ٹرینیں ساہیوال کے راستے کراچی جائیں گی، جبکہ ملت ایکسپریس فیصل آباد سے براستہ چک جھمرہ، سانگلہ ہل، لاہور اور ساہیوال کے راستے کراچی پہنچے گی۔ اسی طرح رحمان بابا ایکسپریس بھی براستہ لاہور اور ساہیوال کراچی روانہ ہوگی۔

کراچی سے آنے والی ٹرینوں کے روٹس میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پاکستان ایکسپریس، ملت ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس کو لاہور، ساہیوال، سانگلہ ہل اور فیصل آباد کے راستے مختلف شہروں کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔

 بابا گورونانک کی برسی تقریبات کا آج آخری روز،سلامتی اور بقا کیلئے دعائیں

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان