امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی کے تحت بھارت کی دواسازی صنعت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر سے امریکا میں درآمد ہونے والی فارماسیوٹیکل مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس اقدام کے بعد بھارت جیسے بڑے دواساز برآمد کنندہ ملک کی مشکلات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

امریکی منڈی پر انحصار، بھارت کے لیے چیلنج

بھارت ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کی ادویات امریکا کو برآمد کرتا ہے، جو کہ ملک کی کل دواسازی برآمدات کا تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔ بھارت نہ صرف دنیا کے بڑے دواساز ممالک میں شامل ہے بلکہ امریکا میں استعمال ہونے والی تقریباً ایک تہائی ادویات بھارتی نژاد کمپنیوں کی ہوتی ہیں۔

اس فیصلے کے بعد بھارتی دواساز کمپنیاں اپنی مصنوعات کو امریکی منڈی میں پرانی قیمتوں پر بیچنے سے قاصر ہوں گی، جس سے نہ صرف ان کی آمدن متاثر ہوگی بلکہ روزگار اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر کا مؤقف  

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یکم اکتوبر سے فارماسیوٹیکل مصنوعات کی درآمد پر 100 فیصد ٹیرف نافذ ہوگا۔ البتہ، جو کمپنیاں امریکا میں دواسازی کا پلانٹ لگائیں گی، انہیں ٹیرف سے چھوٹ دی جائے گی۔یہ پالیسی بظاہر “امریکا میں بناؤ” مہم کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے، جس کے تحت صدر ٹرمپ امریکی صنعت کو مقامی سطح پر مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔

بھاری ٹرک، گھریلو سامان اور فرنیچر بھی نشانے پر

صرف دواسازی ہی نہیں، بلکہ صدر ٹرمپ نے دیگر شعبوں پر بھی بھاری محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے:

بیرون ملک تیار کردہ بھاری ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، جس سے پیٹربلٹ، کین ورتھ، فریٹ لائنر اور دیگر امریکی برانڈز کو فروغ دیا جائے گا۔

کچن کیبنٹس، باتھ روم وینٹیز اور متعلقہ گھریلو مرمت کے سازوسامان پر 50 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔

کپڑے چڑھے فرنیچر (Upholstered Furniture) پر بھی 30 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔

یورپی کمپنیوں کو دھچکا، مارکیٹ میں مندی

صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے یورپی مینوفیکچررز جیسے سویڈن کی Volvo اور جرمنی کی Daimler بھی متاثر ہوں گے، جن کے برانڈز جیسے Freightliner اور Western Star امریکی منڈی میں موجود ہیں۔ فرانس 24 کے مطابق، اس اعلان کے بعد یورپی مارکیٹ میں ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

قومی سلامتی کا حوالہ اور قانونی جواز

صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلے “قومی سلامتی” کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، درآمدات پر یہ سخت اقدامات سیکشن 232 کے تحت جائز ہیں — یہ وہ امریکی قانون ہے جو صدر کو قومی سلامتی کے نام پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

یاد رہے کہ 2025 کے اوائل میں ٹرمپ انتظامیہ نے سیکشن 232 کے تحت بھاری ٹرکوں کی درآمدات کے قومی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس کا نتیجہ اب سامنے آیا ہے۔

ٹرمپ کی پرانی پالیسیوں کا تسلسل

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے سیکشن 232 کا استعمال کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ اس شق کو بنیاد بنا کر چین، یورپ اور دیگر ممالک پر تجارتی دباؤ ڈال چکے ہیں، جس کا مقصد ان کے بقول “امریکی مفادات کا تحفظ” اور “غیر منصفانہ تجارتی رویوں کا مقابلہ” ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قومی سلامتی امریکا میں فیصد ٹیرف کے تحت

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔

تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا

حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی