جشن آزادی کے موقع پر قوم پرست جماعتوں کا قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
سابق راہنما جئے سندھ متحدہ محاذ کا کہنا ہے کہ ہمیں ملک کی سلامتی اور بقا کیخلاف استعمال کیا گیا، دشمن ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ جشن آزادی کے موقع پر قوم پرست جماعتوں نے قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔ جیے سندھ محاذ، جیے سندھ قومی محاذ اور جیے سندھ تحریک کے 53 سے راہنماؤں و کارکنان نے قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ لیاقت چنہ، زاہد حسین، مظہر علی لاشاری، دودو خان ممدانی، و دیگر نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پاکستان سے وفادار رہیں گے اور آج سے ان کا اب کسی قوم پرست جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
سابق راہنما جئے سندھ متحدہ محاذ کا کہنا ہے کہ ہمیں ملک کی سلامتی اور بقا کیخلاف استعمال کیا گیا، دشمن ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا، افواج پاکستان ملکی سرحدوں کی محافظ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی پرچم ہاتھوں میں تھام کر ملک کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔