عدالتی محاذ پر ٹرمپ کی بڑی کامیابی: غیرملکی امدادی ادائیگیوں کی معطلی کیخلاف حکم امتناع خارج
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
امریکا کی وفاقی اپیل کورٹ نے اس حکم امتناع کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے تحت محکمہ خارجہ کو غیر ملکی امداد کی ادائیگیاں جاری رکھنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ اس فیصلے کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کے 3 رکنی اپیل بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ ماتحت عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس کی منظور یافتہ غیر ملکی امداد بحال کرنے کا حکم دے کر غلطی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاکستان کے لیے 397 ملین ڈالرز سمیت غیرملکی امداد کے منجمد فنڈز میں سے 5.
یاد رہے کہ ٹرمپ نے 20 جنوری کو دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر 90 دن کے لیے تمام غیر ملکی امداد عارضی طور پر روک دی تھی۔ اس اقدام کے بعد امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ (USAID) کے بیشتر عملے کو رخصت پر بھیجا گیا اور ادارے کو محکمہ خارجہ کے ماتحت کرنے پر غور کیا گیا۔
دو غیر منافع بخش اداروں ایڈز ویکسین ایڈووکیسی کولیشن اور جرنلزم ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے اس پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈسٹرکٹ جج امیر علی جو صدر جو بائیڈن کے نامزد کردہ ہیں، نے ٹرمپ انتظامیہ کو قریباً 2 ارب ڈالر کی بقایا امداد دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اپیل کورٹ کی جج کیرن ہینڈرسن نے اکثریتی رائے لکھتے ہوئے کہاکہ درخواست گزار اپنے دعوے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے حکم امتناع کا جواز نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی رکن کانگریس نے افغان طالبان کی مالی امداد سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجادی
ہینڈرسن جو ریگن دور میں نامزد ہوئی تھیں، نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت فی الحال اس بات کا تعین نہیں کررہی کہ ٹرمپ کی امداد معطلی آئین سے متصادم ہے یا نہیں۔ ان کے مؤقف سے ٹرمپ کے نامزد کردہ جج گریگوری کاٹساس نے اتفاق کیا۔ البتہ بائیڈن کی نامزد کردہ جج فلورنس پین نے اختلافی نوٹ میں کہاکہ اس فیصلے سے ایگزیکٹو کو قانون اور آئینی اختیارات کی علیحدگی کو نظرانداز کرنے کا موقع ملتا ہے، جو طاقت کے توازن اور جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بڑی کامیابی ٹرمپ حکم امتناع خارج عدالتی محاذ غیرملکی ادائیگیاں وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بڑی کامیابی عدالتی محاذ وی نیوز کی امداد کے لیے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔