ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں؛ بھارت کی اسٹاک مارکیٹس زمین بوس
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر مزید ٹیرف لگانے کی دھمکیوں نے بھارتی کاروباری دنیا میں ہلچل مچادی ہے اور بزنس مین غیریقینی کا شکار ہیں۔
امریکی صدر کے مزید ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد بھارت کے اہم ایکویٹی انڈیکس نِفٹی 50 اور بی ایس ای سینسیکس میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
آج نِفٹی 73.
اسی طرح بی ایس ای سینسیکس بھی 308.47 پوائنٹس یا 0.38 فیصد کمی کے ساتھ 80,710.25 پر بند ہوئی جو ایک موقع پر 80,554.40 کی کم ترین سطح تک بھی گئی تھی۔
جن کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ان میں معروف اڈانی پورٹس، رِیلائنس انڈسٹریز، انفوسس، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایٹرنل، بی ای ایل، ایچ ڈی ایف سی بینک جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگی اور امریکی تجارتی دباؤ کے اثرات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے بقول خاص طور پر ان شعبوں جیسے توانائی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات میں جن پر براہ راست بین الاقوامی تعلقات اثر انداز ہوتے ہیں۔
اگر صدر ٹرمپ نے واقعی ٹیرف میں اضافہ کردیا تو نہ صرف ایکسپورٹ پر اثر پڑے گا بلکہ کارپوریٹ منافع بھی متاثر ہو سکتا ہے، جس کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر مزید منفی ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔