WE News:
2026-07-24@13:20:29 GMT

جرمنی کے چند دلچسپ و عجیب قوانین

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

جرمنی کے چند دلچسپ و عجیب قوانین

دنیا کے ترقی یافتہ اور منظم ترین ممالک میں شمار والا جرمنی بظاہر ایک آزاد خیال ملک کے طور پر جانا جاتا ہے تاہم یہاں کچھ ایسے قوانین بھی ہیں جو بظاہر ایک لبرل ملک سے شاید کچھ لوگوں کو عجیب لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جرمن شہری روزانہ 10 گھنٹے سے زائد بیٹھے رہنے کے عادی، صحت پر تشویشناک اثرات

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں 16 سال کی عمر میں شراب پینا قانونی ہے، بعض پارکوں میں بغیر کپڑوں کے دھوپ سینکنا عام بات ہے اور کچھ مخصوص بارز میں سگریٹ نوشی کی بھی اجازت ہے۔ تاہم اسی ملک میں کچھ قوانین ایسے بھی ہیں جو بظاہر عجیب، سخت اور بعض اوقات حیران کن محسوس ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب ان کا تعلق عوامی رویے، مذہبی تعطیلات اور فطری ماحول سے ہو۔

مذہبی دنوں میں رقص اور فلموں پر پابندی

جرمنی کی متعدد ریاستوں میں ’گڈ فرائیڈے‘ جیسے مذہبی تہوار کو ’خاموش عوامی تعطیل‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن نہ صرف عوامی سطح پر رقص پر پابندی ہے بلکہ کئی فلموں کی نمائش بھی ممنوع ہے۔ مثلاً ریاست بایرن میں یہ پابندی 70 گھنٹے تک جاری رہتی ہے اور اس کی خلاف ورزی پر 10 ہزار یورو تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: جرمن اولمپیئن لارا ڈاہل مائر پاکستان میں کوہ پیمائی کے دوران جان گنوا بیٹھیں، انوکھی وصیت کیا تھی؟

اس روز شور مچانے والی دیگر سرگرمیوں پر بھی پابندی ہوتی ہے، جیسے کار واش، پرانی اشیا کی فروخت یا مکان کی شفٹنگ۔ یہی نہیں بلکہ اس دن کے لیے جرمنی بھر میں تقریباً 700 فلموں کی نمائش پر پابندی ہوتی ہے۔

جنگلات میں رات کو مشروم چننا ممنوع

جرمنی میں رات کے وقت جنگل میں جا کر مشروم یا کھمبیاں چننا غیر قانونی ہے کیونکہ اس سے رات کے وقت متحرک جنگلی جانوروں کو خلل پہنچتا ہے۔ اسی طرح جنگلی لہسن کو اس کی جڑ سمیت اکھاڑنا بھی ممنوع ہے۔ البتہ ذاتی استعمال کے لیے تھوڑی مقدار میں اس کے پتے احتیاط سے توڑے جا سکتے ہیں بشرطیکہ اس سے فطری نظام کو نقصان نہ پہنچے۔

ساحلوں پر ریت کے قلعے اور گڑھے کھودنا غیر قانونی

بحیرہ بالٹک اور شمالی سمندر کے جرمن ساحلوں، خاص طور پر زیُلٹ جیسے جزیروں میں، بچوں کو ریت کے قلعے بنانے یا گہرے گڑھے کھودنے کی اجازت نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان سرگرمیوں سے ساحل کٹاؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

بعض مقامات پر اس کی خلاف ورزی پر 1000 یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ جزیرے ریُوگن جیسے علاقوں میں اجازت تو ہے مگر مخصوص حدود کے ساتھ۔ اور قلعے کی اونچائی 30 سینٹی میٹر اور دائرہ 3.

5 میٹر سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

اتوار کو شور مچاتی مشینیں چلانا جرم

اتوار کے دن جرمنی میں سکون، خاندان اور مذہبی سرگرمیوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔ اس روز پاور ٹولز، لان کی گھاس کاٹنے والی مشین یا کوئی بھی شور مچانے والی چیز چلانا ممنوع ہے۔

اس ضابطے کی خلاف ورزی پر نہ صرف ہمسایوں کی ناراضی بلکہ پولیس کارروائی کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ خاموشی محض گھروں تک محدود نہیں بلکہ گلیوں اور بازاروں تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔ ایک پرانا قانون ’دکانیں بند کرنے کا قانون اتوار اور عوامی تعطیلات پر ریٹیل دکانوں کو بند رکھنے کا پابند بناتا ہے۔ چند مخصوص مواقع کے علاوہ اتوار کو خریداری تقریباً پورے ملک میں ممکن نہیں۔

شاہراہ پر ایندھن ختم ہونا بھی قانون شکنی

جرمنی کی مشہور شاہراہیں اپنی رفتار کی آزادی کے لیے مشہور ہیں لیکن اگر یہاں آپ کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو جائے تو یہ ایک قابلِ سزا جرم ہے۔

مزید پڑھیں: جرمنی کا فری لانس ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟

حکام کے مطابق یہ عمل لاپروائی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ڈرائیور بلکہ دوسروں کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ شاہراہوں صرف ہنگامی صورت میں رکنے کی اجازت ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جرمنی جرمنی کے دلچسپ قوانین جرمنی کے عجیب قوانین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جرمنی کے دلچسپ قوانین جرمنی کے عجیب قوانین کی خلاف ورزی پر سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر