شفاف ٹرائل آئینی حق، پولیس مقابلوں پر ازخود نوٹس لیں، چیف جسٹس کو خط
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) سی سی ڈی کی جانب سے پولیس مقابلوں کیخلاف از خود نوٹس کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھ دیاگیا۔ جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق نے موقف اپنایا کہ سی سی ڈی کا ادارہ کسی قانونی جواز کے بغیر قائم کیا گیا۔ آئین کے تحت ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے، کسی بھی شخص کو شک کی بنیاد پر زندگی سے محروم کرنا انصاف کے اصولوں کی نفی ہے۔ اسلامی، عالمی اور ملکی قوانین کے علاوہ آئین پاکستان کے تحت انسانی جان کو حرمت حاصل ہے۔ ماورائے عدالت مقابلوں کو عدالتیں بھی غیرآئینی قرار دے چکی ہیں۔ اداروں کا کام امن قائم کرنا جبکہ انصاف کرنا عدالتوں کا اختیار ہے، چیف جسٹس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر پولیس مقابلوں کا ازخود نوٹس لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں