سینیٹ میں اقلیتوں کی پارلیمانی کاکس قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کاکس اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرے گا، سینیٹ اجلاس میں اقلیتوں کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے خصوصی قرارداد پیش کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اقلیتوں کا قومی دن، سینیٹ میں اقلیتوں کی پارلیمانی کاکس قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اراکین کو بھی پارلیمانی کاکس میں نمائندگی دی جائے گی، خواتین اور اقلیتوں کی فلاح ہمیشہ ترجیحات میں شامل رہی۔ چیئرمین سینیٹ نے اقلیتی برادری کے سینیٹرز کے مطالبے پر کاکس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ بطور وزیراعظم خواتین اور اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کیا، شہید بے نظیر بھٹو نے اقلیتوں اور خواتین کی ترقی کے لیے نمایاں خدمات سر انجام دیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بلاول بھٹو خواتین کو بااختیار اور قومی اداروں میں شمولیت کے خواہاں ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری اقلیتوں کے حقوق اور مساوی مواقع کے لیے پُرعزم ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خواتین و اقلیتوں کے کوٹے میں اضافے کے لیے کوششیں جاری ہیں، ایوانِ بالا میں اقلیتوں کو 4 فیصد نمائندگی دینے کی تجویز اعلیٰ فیصلہ سازی میں خواتین و اقلیتوں کو نمائندگی دینا ناانصافیوں کے ازالے میں مددگار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کاکس اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرے گا، سینیٹ اجلاس میں اقلیتوں کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے خصوصی قرارداد پیش کی جائے گی۔ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اقلیتوں نے پاکستان کی ترقی اور ہم آہنگی میں کلیدی کردار ادا کیا، پاکستان کثیرالثقافتی ملک ہے جہاں ہر عقیدے کے شہری ترقی میں شریک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پارلیمانی کاکس چیئرمین سینیٹ میں اقلیتوں اقلیتوں کے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔