برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر امدادی اداروں کو فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے تاکہ متاثرہ فلسطینیوں تک زندگی بچانے والی امداد پہنچائی جا سکے۔

27 یورپی ممالک کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ **غزہ میں انسانی صورتحال ناقابلِ تصور حدوں کو چھو رہی ہے**، اور ہماری آنکھوں کے سامنے قحط مسلط کیا جا رہا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی اداروں کو غزہ کے تمام علاقوں تک رسائی دے، اور امدادی کارروائیوں کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ساتھ ہی امدادی مراکز پر حملے بند کیے جائیں تاکہ عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
یہ اپیل ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں صرف آج کے دن 60 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید 5 فلسطینی، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہو گئے ہیں۔

اب تک غذائی قلت سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 227 تک پہنچ چکی ہے ، جن میں 103 بچے شامل ہیں** — جو کہ ایک انتہائی دردناک اور خطرناک انسانی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں تباہی کی یہ لہر ناقابلِ واپسی ہو سکتی ہے، اور عالمی ضمیر اس ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

 

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا