اسلام آباد:(نیوز ڈیسک )
آئی ایم ایف نے حکومت کو نئے این ایف سی ایوارڈ میں تکنیکی معاونت کی پیشکش کردی، نئے این ایف سی فارمولے میں آبادی کا حصہ کم جب کہ تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل کو شامل کرنے پر غورکیا جارہا ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے نیا فارمولا تیار کرنے کی کوششوں کی تناظر میں آئی ایم ایف نے بھی حکومت کو تیکنیکی معاونت کی پیش کش کی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی این ایف سی پر باقاعدہ مشاورت نہیں ہوئی، ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نئے این ایف سی کا فارمولا کیا ہوگا تاہم نیا این ایف سی فارمولا طویل المدتی قومی مفاد مدنظر رکھ کر طے ہوگا، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی ضرورت پر غور جاری ہے۔

حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی آبادیاتی و ساختی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان فارمولے پر ازسرنو مشاورت کی تجویز زیرغور ہے، مجوزہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا حصہ 82 فیصد سے کم کرنے کی تجویز ہے وفاقی اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں تعلیم، صحت اور ٹیکس وصولی جیسے عوامل شامل کرنے پر غور جاری ہے۔

24 کروڑ 15 لاکھ سے زائد آبادی کو نئے فارمولے کی بنیاد بنانے کی تجویز ہے۔ کارکردگی اور ماحولیاتی اقدامات پر وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی زیرغور ہے، وفاق اور صوبوں کے مالی اختیارات کی ازسرنو وضاحت کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان