ایف بی آر میں جاری اصلاحاتی عمل کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں وزیراعظم نے ایف بی آر میں جاری اصلاحات کو مستقل اور مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی رکاوٹوں اور سرخ فیتے کا خاتمہ ضروری ہے، کسٹم کلیئرنس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ کارروائیوں میں وقت کی بچت ہو۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات سے ٹیکس کلیکشن میں بہتری قابل اطمینان اور خوش آئند ہے، کسٹم کلیئرنس میں ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحاتی عمل کا ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس اصلاحات اور کسٹم کلیئرنس کے نظام میں بہتری پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے ایف بی آر میں جاری اصلاحات کو مستقل اور مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی رکاوٹوں اور سرخ فیتے کا خاتمہ ضروری ہے، کسٹم کلیئرنس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ کارروائیوں میں وقت کی بچت ہو، اور اصلاحاتی اقدامات کو پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن کے اہداف حاصل کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا، اور پہلے سے عائد ٹیکسز کے مؤثر نفاذ سے کلیکشن میں مزید بہتری آئے گی، ٹیکس اصلاحات سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات کی مدد سے ایف بی آر اور کسٹمز اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی) میں ٹیکس ہدف مکمل کرلیا ہے، جبکہ کسٹم کلیرنس کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز اور فیس لیس نظام کے نفاذ پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر انکم ٹیکس گوشواروں کا آن لائن فارم اردو زبان میں بھی دستیاب کر دیا گیا ہے، جس سے 84 فیصد فائلرز مستفید ہوں گے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا، چیئرمین ایف بی آر، اٹارنی جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایف بی آر میں جاری اصلاحات کو فروغ دیا جائے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان