لندن کی نرسری چین پر ہیکرز کا حملہ: 8 ہزار بچوں کا ڈیٹا چوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
لندن کی ایک معروف نرسری چین Kido International کو ہیکرز نے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 8,000 سے زائد بچوں کا ذاتی ڈیٹا چوری ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل پرائیویسی خطرے میں: لاکھوں پاکستانیوں کا ڈیٹا ہیکرز کے ہتھے چڑھ گیا
ہیکرز نے اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے 10 بچوں کی تصاویر، نام، پتہ اور والدین کے رابطے کی معلومات ڈیپ ویب پر جاری کی ہیں۔
انہوں نے مزید 30 بچوں اور 100 ملازمین کے ڈیٹا کو افشا کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ حملہ بچوں کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہے۔
‼️ A hacker group named 'Radiant' is extorting a nursery, using 8,000 children's sensitive data, including safeguarding notes and medical information, as leverage.
— International Cyber Digest (@IntCyberDigest) September 28, 2025
ہیکر گروپ ’ Radiant ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے Kido کے نیٹ ورک میں کئی ہفتوں تک رسائی حاصل کی۔ یہ گروپ روس میں مبینہ طور پر مقیم ہے، حالانکہ اس دعوے کی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ہیکرز کی کارروائی، بھارت کی حساس معلومات ڈارک ویب پر برائے فروخت
Kido نے اس حملے کو تیسری پارٹی کے سسٹمز کے ذریعے ہونے کا الزام عائد کیا ہے، خاص طور پر Famly پلیٹ فارم پر، حالانکہ Famly نے اپنے سسٹمز کی سیکیورٹی میں کسی خرابی کی تردید کی ہے۔
متعلقہ حکام تحقیقات کر رہے ہیں، اور متاثرہ خاندانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ برطانیہ میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کی بڑھتی ہوئی لہر کا حصہ ہے، جس سے بچوں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی اور رازداری کے بارے میں سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانیہ ڈیٹا چوری لندن نرسری ہیکر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ ڈیٹا چوری ہیکر
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔