لاہور (نامہ نگار) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ لاہور کے سیاستدان دان صرف بغض بینظیر میں بی آئی ایس پی کا ڈیٹا استعمال نہیں کرنا چاہتے، موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث معاشرے کا ہر ذی شعور فرد ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔یہاں اصل فیصلہ بیوروکریٹ یا جاتی امراء والے کرتے ہیں، سیاسی لوگ نہیں۔ بابوں والا ماڈل اپنائیں گے تو وہ کامیاب نہیں ہو گا۔ بی آئی ایس پی کا ساڑھے 3کروڑ کا ڈیٹا تحصیل لیول تک استعمال کریں۔ سیلاب زدہ علاقوں کے کاشتکاروں کی بحالی کے لئے حکومت  بابووں کی بجائے کسانوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں فیصل میر، رانا جواد، نایاب جان اور احسن رضوی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد جاوید جان، چودھری ریاض، ڈاکٹر ضرار یوسف، ذیشان شامی اور دیگر بھی موجود تھے۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ آپ شہید بی بی کی فوٹو کی وجہ سے بضد ہیں۔ آپ کے ترجمان جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ آپ جانیں یا پی ٹی آئی والے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ ندیم افضل کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی۔ آپ انگلیاں توڑیں یا کچھ اور، میری زبان کٹ تو سکتی ہے رک نہیں  سکتی۔ پنجاب حکومت سیلاب زدہ کاشتکاروں کی بحالی کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔ کسانوں کو فی الفور نئی فصل کی کاشت کے لئے فی ایکڑ ایک لاکھ کا ریلیف چاہئیے۔  پنجاب ہماری بنیاد اور صوبہ ہے جہاں آواز اٹھانا جرم بن چکا ہے۔ یہاں پودا لگانا ہو یا ٹرانسپورٹ چلانی ہو تو وزیر اعلیٰ تین سیکرٹری لیکر بیٹھ جاتی ہیں۔ ایک سال میں لوکل باڈی الیکشن کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ آج مقامی ادارے ہوتے تو سیلاب کے بعد یہ صورتحال نہ ہوتی۔ گندم صرف روٹی نہیں یہ بنک گارنٹی اور کسان کی ضرورت ہے۔ آپ نے آئی ایم ایف کا بہانہ بنایا۔ جس پر سعد رفیق بھی ٹویٹ کر چکے ہیں۔ شاہ خرچیاں کرنے کی بجائے کسان کو یہ رقم دیتے تو اربوں کی گندم امپورٹ نہ کرنا پڑتی۔ آپ کسانوں کو 20 ہزار فی ایکڑ  دے رہے ہیں جبکہ بھارت اور ہماری کرنسی اور کھاد بجلی کے ریٹس میں واضح فرق ہے۔ امداد کے تین ٹرک آتے ہیں تو دو باہر بیچ دئیے جاتے ہیں۔ لاہور میں بیٹھے بہت سے افراد کو بھٹو خاندان سے بغض ہے اور بغض بے نظیر کا کوئی علاج نہیں۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ 55.

9 ارب کا سندھ ہاری کارڈ جاری ہو چکا، چاہتے ہیں پنجاب حکومت بھی جاری کرے۔ جتنے پیسے اشتہارات پر دئیے، اتنے کم از کم کسانوں کو دے دیتے۔ سندھ میں جو 21 لاکھ گھر بنے ہیں، جا کر دیکھیں۔ آپ سندھ کے کسان کو نہ دیں، پنجاب، کے پی اور دیگر کودے دیں۔ نئے صوبوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں نئے صوبوں پر بحث نہیں ہوئی، پہلے معاشرے میں اتفاق ضروری ہے۔ فیصل میر نے کہا کہ مریم نواز یہ تو کہہ رہی ہیں کہ فی کاشتکار کا 10 لاکھ روپے دئیے جائیں گے، لیکن یہ تو بتا دیں کہ اس کے لئے بجٹ کتنا مختص کیا گیا ہے۔ کسان دیکھ رہے ہیں کہ انہیں کب دس دس لاکھ روپے ملیں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ندیم افضل نے کہا کہ کے لئے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن