نابینا سفارتکار صائمہ سلیم کا اقوام متحدہ میں خطاب، ایک ایک حیران کُن لمحہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کے ایوان میں اس وقت ایک یادگار لمحہ دیکھنے کو ملا جب پاکستان کی نابینا مگر عزم و حوصلے کی پیکر سفارتکار صائمہ سلیم نے خطاب کیا۔
ان کی موجودگی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصل بصیرت آنکھوں میں نہیں بلکہ دل کے حوصلے اور عزمِ صمیم میں ہوتی ہے۔
Grateful to Prime Minister Shehbaz Sharif for his kind encouragement and appreciation.
— Saima Saleem (@SSaima11) September 27, 2025
وزیراعظم شہباز شریف نے صائمہ سلیم کی جدوجہد اور خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی قربانیوں اور لگن کا اعتراف کیا، جو ہر پاکستانی کے لیے باعثِ فخر ہے۔
صائمہ کی کہانی ہر اس شخص کے لیے روشنی کا پیغام ہے جو مشکلات میں بھی حوصلہ قائم رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پاکستانی نابینا سفارتکار صائمہ سلیم سے ملاقات، خدمات کو سراہا
ان کی جدوجہد اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اگر نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو تو کوئی اندھیرا روشنی کا راستہ نہیں روک سکتا۔
صائمہ سلیم نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور عزم کے ذریعے پاکستان کی سفارتی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا۔ وہ نہ صرف ایک قابل سفارت کار ہیں بلکہ اپنی معذوری کو کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دینے کی ایک روشن مثال بھی ہیں۔ ان کی سفارتی مہارت، خاص طور پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے شعبوں میں ان کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے۔
پانی کا ہتھیار کے طور پر استعمال، انڈیا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے ، پاکستان pic.twitter.com/dC3XFGPEi4
— WE News (@WENewsPk) May 24, 2025
’سی ایس ایس میں چھٹی پوزیشن‘انہوں نے اپنی معذوری کے باوجود غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی ایس ایس امتحانات 2006 میں چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں اور بعد میں بطور فل برائٹ اسکالر جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کی۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif in a group photo with the officers of the Pakistan Mission in the UN headquarters today after his speech to the 80th Session of the UN General Assembly.
Defence Minister Khawaja Asif and Ambassador Asim Iftikhar Ahmad are also present on… pic.twitter.com/ClU1z2aZCV
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) September 27, 2025
نواز شریف اور شہباز شریف کی حوصلہ افزائی2008 میں معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے صائمہ سلیم کو اپنا معاون خصوصی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’ سرحد پار تشدد اور اقلیتوں پر مظالم بے نقاب ‘، اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور عزم کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی سراہا، جو انہوں نے 2013 میں جنیوا میں اپنے عہدے کے دوران پاکستان کی مثبت تصویر کو فروغ دینے کے لیے کیا۔
’صائمہ سلیم کی زندگی کے چیلنجر‘صائمہ سلیم نے 07-2006 میں سی ایس ایس امتحانات میں حصہ لیا تو ایک مشکل یہ سامنے آئی کہ بذریعہ کمپیوٹر امتحانات پالیسی کا حصہ نہیں جس پر انہوں نے 2005 کے رولز کا حوالہ دیا اور پھر انہیں بذریعہ کمپیوٹر امتحان دینے کا موقع ملا۔
???????????? Ms. Saima Saleem, Counsellor at Pakistan’s Mission to the UN, moderated a high-level event at @UNHQ titled “Indus Waters Treaty and Pakistan's Water Crisis: Challenges and the Way Forward.”
The event was jointly organized by the Mission and @MALAonline.@SSaima11 #UN… pic.twitter.com/yM0tt8Mk9i
— Pakistan Diplomacy News (@pakdiplomacy) September 14, 2025
سی ایس ایس پاس کرنے کے بعد انہیں بصارت سے محرومی کی وجہ سے فارن آفس پوسٹنگ کے لیے خصوصی اجازت نامہ لینا پڑا۔
’پاکستان کے پہلے نابینا جج‘صائمہ کے ایک بھائی یوسف سلیم بھی نابینا ہیں، وہ پاکستان کے پہلے نابینا جج ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کی ماتحت عدلیہ میں سول جج کے طور پر خدمات انجام دیں، جو معذور افراد کے لیے ایک تاریخی کامیابی تھی۔
یہ بھی پڑھیں دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں کے ساتھ ناروا سلوک
صائمہ کی ایک اور بہن، جو نابینا ہیں، لاہور یونیورسٹی میں لیکچرار کے عہدے پر فائز ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی چیف اقوام متحدہ پاکستان صائمہ سلیم نابینا سفارتکار وزیراعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف اقوام متحدہ پاکستان صائمہ سلیم نابینا سفارتکار صائمہ سلیم سی ایس ایس انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔