نارتھ کراچی سلیم سینٹر کے قریب ٹریفک حادثے میں 6 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نارتھ کراچی سلیم سینٹر کے قریب ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوگئے۔ریسکیو حکام کے مطابق زخمی افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کیلئے قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔۔پولیس کے مطابق حادثہ کار سوار شخص کی تیز رفتاری اور غفلت کے باعث پیش آیا جس نے مرکزی شاہراہ سے گزرنے والی 4 موٹر سائیکلوں کو ٹکر ماری۔حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے تمام افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے جو معمولی نوعیت کے زخم آئے۔ حادثے کے بعد راہ گیر افراد نے کار سوار شخص کو پکڑ کر قریب موجود پولیس موبائل کے حوالے کیا۔کار سوار شخص مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تھا جو حادثے کے دوران خود بھی معمولی نوعیت کا زخمی ہوا ہے۔ تاہم کار سوار شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کار سوار شخص حادثے کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔