افغان طالبان کے آنے سے بلوچستان اور پختونخوا میں دہشتگردی بڑھی ،بلاول
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (صباح نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بلاول زرداری نے کہا کہ بھارت بھی دہشتگرد گروہوں کی مالی مدد کو نہیں چھپاتا، یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھا رہے ہیں ،افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ سیلاب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تاریخی نقصانات ہوئے، وفاق پر تنقید نہیں کررہا بلکہ درخواست کررہاہوں کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے عالمی سطح پر بات کی جائے۔چیئرمین پی پی نے سیلاب متاثرین کی مدد پر پنجاب حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کئی جگہوں پر مدد نہیں پہنچ پارہی، جنوبی پنجاب کے لوگوں کا قصور کیا ہے؟ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ان کی مدد کیوں نہیں کی جا رہی؟۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پختونخوا میں کی مدد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔