امریکا نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی خواہش ظاہر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
امریکا کے مطابق اگر کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کی جائے تو ہم آمادہ ہیں، مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا ہے، پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا نے مدد فراہم کی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی خواہش ظاہر کر دی۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست تنازع ہے۔ امریکا کے مطابق اگر کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کی جائے تو ہم آمادہ ہیں، مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا ہے، پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا نے مدد فراہم کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دہشتگردوں کی حوالگی کے اقدام پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، امریکی شہریوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد کی حوالگی تعلقات کی اچھی شروعات تھی۔ امریکا کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنے مفادات کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں، پاکستان اور بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات مختلف نوعیت کے حامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ہم ریکوڈک میں سرمایہ کاری کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر امریکا نے کے مطابق
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔