Express News:
2026-06-03@08:10:50 GMT

جوا ایپس کیس؛ ڈکی بھائی کی درخواست پر عدالت کا اہم فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT

معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی مشکلات میں کمی نہ ہوسکی انھیں ابھی مزید کچھ دن جیل میں رہنا ہوگا۔

مقامی عدالت نے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آن لائن جوا کھیلنے والی ایپس کی تشہیر کی تھی۔

جس پر یوٹیوبر نے مقامی عدالت سے ضمانت کے لیے رجوع کیا تھا، تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے درخواست مسترد کر دی۔

اس سے قبل انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا۔ ان کے وکیل ایڈووکیٹ چوہدری عثمان علی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ مقدمہ جھوٹا، بدنیتی پر مبنی اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے درج کیا گیا ہے۔

ڈکی بھائی کے وکیل نے کہا کہ جن ایپس کی پروموشن کا الزام عائد کیا گیا انھیں اُس وقت حکومت نے غیر قانونی قرار نہیں دیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ تفتیشی اداروں نے ایسا کوئی ثبوت عدالت کے سامنے نہیں رکھا جو جعلسازی، دھوکہ دہی، اسپامنگ یا اسپوفنگ کو ثابت کرے۔

وکیل نے استدعا کی کہ ایف آئی آر میں درج دفعات 294-بی اور 420 تعزیراتِ پاکستان قابلِ ضمانت ہیں اور کسی بھی متاثرہ شخص نے عدالت میں پیش ہو کر نقصان کا دعویٰ نہیں کیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ڈکی بھائی کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، وہ ملک سے فرار ہونے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے اور ضمانتی بانڈ جمع کرانے کے لیے تیار ہیں۔ 

کیس کا پس منظر

ڈکی بھائی پاکستان کے مشہور یوٹیوبرز میں شمار ہوتے ہیں جن کے لاکھوں فالورز ہیں۔ انہیں کچھ عرصہ قبل جوا ایپس کی تشہیر کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے موقف اپنایا کہ ایسی ایپس نوجوانوں کو جوا کھیلنے پر اکساتی اور مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈکی بھائی ایپس کی کیا گیا

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا