سزاؤں کے بعد نااہلی کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے سزاؤں کے بعد نااہلی کے جاری نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے احمد خان بھچر، احمد چٹھہ اور جنید افضل ساہی کی سزاؤں کے بعد نااہلی کے جاری نوٹیفکیشن کے خلاف اور ضمنی انتخابات روکنے کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر شہزاد شوکت پیش ہوئے۔
بیرسٹر شہزاد شوکت نے موقف اختیار کیا کہ اے ٹی سی نے 9 مئی کے مقدموں میں سزائیں سنائی الیکشن کمیشن نے سپیکر کا ریفرنس آئے بغیر ہی درخواست گزاروں کو نااہل قرار دے دیا جبکہ سپیکر خود کسی ممبر کو نااہل نہیں کر سکتا۔
محسن نقوی کو وزیراعظم بنائے جانے کی خبر غلط ہے، اسحاق ڈار
دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ابھی ان حلقوں میں ضمنی الیکشن نہیں ہو رہا، ہمیں تیاری کیلئے آئندہ ہفتے تک کا وقت دے دیں، عدالت نے استفسار کیا کہ دو حلقوں میں شیڈول آچکا ہے اور کاغذات نامزدگی بھی جمع ہو رہے ہیں۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے فیصلوں میں لکھا گیا ہے کہ یہ لوگ اخلاقی بدیانت ہیں نااہل کرتے وقت الیکشن کمیشن دو لائنیں ہی لکھ دیتا کہ یہ اخلاقی بدیانت ہیں لہٰذا ناہل کر رہے ہیں۔
جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہم معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیں اور انہیں کہہ دیں کہ وہ سب کے تحفظات سن کر فیصلہ کر دیں ہم الیکشن کمیشن کو پابند کر دیں گے کہ اور ایک وقت مقرر کر دیں گے، دوسرا حل یہ ہے میں نوٹس کر دیتا ہوں منگل کو دستیاب بنچ سن لے گا۔
پی ٹی آئی ایم پی اے امتیاز محمود شیخ کی رکنیت معطلی کے خلاف درخواست خارج
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کا نااہلی کا آرڈر کالعدم قرار دے کر ہمیں الیکشن کمیشن بھیج دیں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین کو سنے بغیر کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں جس پر شہزاد شوکت نے ہدایت کیلئے وقت مانگا بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ آپ اس کیس میں 18 اگست کیلئے نوٹس جاری کر دیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چلیں میں نوٹس جاری کر دیتا ہوں جو دستیاب بنچ ہوگا وہ سن لے گا۔بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 18 اگست تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن عدالت نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔