لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر سے علی لاریجانی کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
صحافیوں سے اپنی ایک گفتگو میں ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں بہت کم وقت کے بعد، پھر سے اس اہم ملک لبنان میں موجود ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ "علی لاریجانی"، حزب الله لبنان کے سابق سیکرٹری جنرل شہید "سید حسن نصر الله" کی شہادت کی پہلی برسی میں شرکت کے لئے بیروت میں موجود ہیں۔ جہاں انہوں نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر "نبیہ بیری" سے ملاقات اور بات چیت کی۔ واضح رہے كہ علی لاریجانی، قومی سلامتی کونسل کی سربراہی پر فائز ہونے کے بعد دوسری دفعہ لبنان گئے ہیں۔ جہاں انہوں نے آج بیروت کے رفیق حریری ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں بہت کم وقت کے بعد، پھر سے اس اہم ملک لبنان میں موجود ہوں۔ فطری طور پر اس سفر کا ایک اہم مقصد لبنانی شہداء کی یاد میں منعقد ہونے والے اجتماع میں شرکت کرنا ہے۔ ان عزیز شہداء نے لبنان کی سرزمین کی حفاظت کی، جن میں شہید حسن نصر الله اور شہید سید ہاشم صفی الدین سرفہرست ہیں۔ علی لاریجانی نے کہا كہ اس مختصر سے موقع پر جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں، دیگر ملاقاتیں بھی ہوں گی جنہیں ہم تمام ممالک کے لئے فائدہ مند ہونے کی امید رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی لاریجانی کے بعد
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔