حکومت کا سرویکل کینسر ویکسین پر سیاسی و مذہبی قیادت سے مشاورت کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ سرویکل کینسر سے بچائو کے لیے ویکسین کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی نمائندوں کے تحفظات کو دور کیا جا سکے اور صحت عامہ سے متعلق اس اہم پیش رفت کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفی کمال مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے رابطے کریں گے، جبکہ وفاقی وزارت صحت کے اعلیٰ حکام مذہبی جماعتوں سے ملاقاتیں کر کے انہیں ویکسین کے سائنسی پہلوو ¿ں اور فوائد سے آگاہ کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرویکل کینسر کے خلاف ویکسین دنیا بھر میں خواتین کی صحت کے تحفظ کے لیے استعمال کی جا رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں اس ویکسین کے استعمال سے قبل تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینا حکومت کی ترجیح ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کو بھی اس بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، جبکہ مختلف سطحوں پر مشاورت کا دائرہ کار بڑھا کر اسے قومی اتفاقِ رائے کی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وسیع تر مشاورت کا مقصد نہ صرف ویکسینیشن پروگرام کو کامیاب بنانا ہے بلکہ عوامی سطح پر اعتماد اور آگاہی کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ قومی صحت کے اس اہم اقدام کو عملی شکل دی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔