پاکستان فٹ بال فیڈریشن کاقومی ٹیم کے 2 سابق کپتانوں کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاکستان فٹ بال فیڈریشن کاقومی ٹیم کے 2 سابق کپتانوں کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائر کے لیے قومی ٹیم کے دو سابق کپتانوں کلیم اللہ اور صدام حسین کو ایک اور موقع دینیکا فیصلہ کیا ہے۔قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو دونوں سینئر کھلاڑیوں کو پرکھنے پر رضا مند ہوگئے ہیں اور دونوں کھلاڑیوں کو افغانستان کے خلاف میچ کے لیے ممکنہ پلیئرز کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایشین کپ کوالیفائر راونڈ تھری کا میچ 9 اکتوبر کو کھیلا جائے گا جس کے لیے پاکستان ٹیم منiجمنٹ نے 12 اوور سیز پلیئر سمیت 37 ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست تیار کرلی ہے۔
افغانستان کے خلاف پاکستان کے ممکنہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ اگلے ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے جب کہ ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست سے گول کیپر یوسف بٹ کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔میلبرن سٹی کی نمائندگی کرنے والے احمد فراز گلزاری بھی ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل ہیں جب کہ ویلز کے رہکسم اے ایف سی میں کھیلنے والے عمر نواز کو بھی قومی فٹبال اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ عمر نواز سانحہ اے پی ایس کے متاثر احمد نواز کے بھائی ہیں۔عادل نبی، اعتزاز حسین اور حارث زیب بھی پہلی بار پاکستان فٹبال اسکواڈ میں شامل ہیں، آوٹس خان کو بھی قومی فٹبال اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب کام کررہا ہے باقی لوگ تنقید کررہے ہیں، تنقید کرنے والے بھی کچھ کام کرلیں: مریم نواز پنجاب کام کررہا ہے باقی لوگ تنقید کررہے ہیں، تنقید کرنے والے بھی کچھ کام کرلیں: مریم نواز خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھی خاتون کون ہیں؟ پتا چل گیا حکومت خیبرپختونخوا صوبے میں آپریشن کی حامی نہیں، گنڈاپور کا پشاور میں جلسے سے خطاب سی پیک فیز 2 کا آغاز، بلوچستان میں معدنیات راہداری قائم کی جائے گی، وفاقی وزیر پاکستان اور بھارت کتنی بار فائنلز میں ٹکرائے اورکس کا پلڑا بھاری ہے؟ بھارت پراکسیز کے ذریعے خطے میں بدامنی پھیلا رہا: پاکستان کا یواین میں دو ٹوک جوابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹیم کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔