ایشیا کپ کے سنسنی خیز فائنل میں پاکستان اتوار کو اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف میدان میں اترے گا، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ فائنل: بھارت کو کیسے پچھاڑا جا سکتا ہے؟ وسیم اکرم نے گُر بتا دیا

بھارت نے اب تک ناقابلِ شکست رہتے ہوئے ایونٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے ٹائٹل بچانے کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کو گروپ اسٹیج اور سپر فور مرحلے میں بھارت کے ہاتھوں دو مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کپتان سلمان آغا کا کہنا ہے کہ ٹیم پُرجوش ہے اور حریف کو ہرانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

دوسری جانب بھارت کے اوپنر ابھیشیک شرما شاندار فارم میں ہیں، جنہوں نے اب تک 309 رنز بنا کر ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ فائنل: انڈیا کیخلاف پاکستان کو کیسے کھیلنا چاہیے؟ ہیڈ کوچ نے کھلاڑیوں کو ہدایات دے دیں

بھارت کے اسپنر کلدیپ یادو 13 وکٹوں کے ساتھ بولرز میں سب سے آگے ہیں جبکہ جسپریت بمراہ اور دیگر آل راؤنڈرز نے ٹیم کو متوازن کارکردگی فراہم کی ہے۔

فائنل سے قبل بھارت نے سری لنکا کے خلاف سپر اوور میں کامیابی حاصل کرکے اپنی برتری برقرار رکھی۔

یہ پہلا ٹورنامنٹ ہے جس میں پاکستان اور بھارت مئی میں ہونے والے عسکری تنازع کے بعد آمنے سامنے آئے ہیں، جس سے میچ میں مزید کشیدگی کی فضا متوقع ہے۔

شائقین دونوں ملکوں کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کے شدت سے منتظر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ بھارت کے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان