ارب پتی ایلون مسک نے اتوار کے روز واضح کیا کہ ملزم جنسی مجرم جیفری ایپسٹن نے انہیں امریکی ورجن جزائر جانے کی دعوت دی، جہاں متعدد خواتین نے ایپسٹن کے ساتھ زیادتی کے الزامات لگائے تھے، لیکن مسک نے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کے والد پر بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

یہ بیان اس کے ایک دن بعد سامنے آیا جب ایپسٹن کے فائلز میں مسک کا نام بھی شامل کیا گیا، جس میں دیگر معروف شخصیات جیسے بل گیٹس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حلیف اسٹیو بینن بھی شامل تھے۔

جنسی مجرم جیفری ایپسٹن کا جزیرہ

مسک نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ایپسٹن نے مجھے اپنے جزیرے پر جانے کی دعوت دی اور میں نے انکار کر دیا، پھر بھی میرا نام شامل کیا گیا۔ جو لوگ جھوٹی کہانی پھیلا رہے ہیں، وہ مکمل حقارت کے مستحق ہیں‘۔

6 صفحات پر مشتمل دستاویز میں دسمبر 2014 میں مسک کے ایپسٹن کے جزیرے جانے کی ممکنہ منصوبہ بندی کا ذکر تھا، جس کے ساتھ یہ نوٹ بھی تھا ’کیا یہ ابھی بھی ہو رہا ہے؟‘ تاہم یہ واضح نہیں کہ مسک نے واقعی یہ سفر کیا یا نہیں۔

مسک نے فوری طور پر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جھوٹ ہے‘۔

دستاویز میں اس کے علاوہ 16 فروری 2019 کو اسٹیو بینن کے ساتھ اور 5 دسمبر 2014 کو بل گیٹس کے ساتھ ممکنہ ناشتے کا ذکر بھی شامل تھا۔

Oh, Looky! Three MAGA VIPs Just Showed Up In Epstein Files

Newly released Epstein files show that Elon Musk, Steve Bannon and Peter Thiel all hobnobbed with the sex-trafficking pedophile.

https://t.co/3HJuRJgssf

— Pedro J. Chamorro U. (@nicahokie) September 28, 2025

ڈیموکریٹک قانون سازوں نے امریکی محکمہ انصاف سے ایپسٹن فائلز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مسترد کیا تھا۔

مسک نے حالیہ برسوں میں ٹرمپ انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے اور دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹن فائلز میں ٹرمپ کا نام بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے دستاویزات جاری نہیں کی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایلون مسک جنسی مجرم جیفری ایپسٹن ڈونلڈ ٹرمپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایلون مسک جیفری ایپسٹن ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک کے ساتھ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا