ننھے سعد کے اغوا سے لیکر قتل تک کی اندوہناک تفصیلات!
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
لانڈھی میں ننھے سعد کے قاتل حسن اور سہیل نے بچے کے اغوا سے لیکر قتل تک کی تفصیلات بتادیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی کے علاقے میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے کیس کی سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے دونوں ملزمان کا اعترافی بیان ریکارڈ کرلیا۔
ملزم حسن نے بیان دیا کہ میں گوشت کا کام کرتا ہوں اور 18 ستمبر کو باڑے کے پاس موجود تھا، میرے ساتھ ملزم سہیل بھی موجود تھا، بچہ خالہ کے گھر سے باہر آیا تو سہیل نے اسے چیز دلوائی اور باڑے لے آیا۔
ملزم حسن نے پولیس کوبتایا کہ باڑے میں تھوڑی دیر بچے کو جانور دکھائے اور پھر کمرے میں لے گئے، پہلے سہیل نے بچے سے زیادتی کی اس کے بعد میں نے زیادتی کی، بچے کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اوپر کپڑا ڈال دیا تاکہ اس کی آواز نہ نکلے، اس کے بعد سہیل نے بچے کو کمرے سے باہر نکالا اور گلا دبایا۔
ملزم حسن نے کہا کہ سہیل نے بچے کے سر پر بلاک مارا جس سے وہ مرگیا جس کے بعد ہم نے بھوسے کے ڈبہ میں لاش ڈال کر اسے گندی گلی میں پھینک دیا، سہیل گھر سے قالین لیکر آیا اوپر رکھا اور پھر بلاک رکھ دیا، ہمیں لاش کا معلوم تھا اس لئے ورثا کو خود لےکر وہاں گئے۔
ننھے سعد کے دوسرے قاتل ملزم سہیل نے بیان دیا کہ ملزم حسن کے کہنے پر بچے کو باڑے میں لیکر گیا تھا، پہلے میں نے پھر حسن نے بچے سے زیادتی کی، حسن نے بچےکو مارا جس کے بعد گندے نالے میں پھینک دیا، عدالت نے دونوں ملزمان کا اعترافی بیان ریکارڈ کرکے ریکارڈ پر رکھ لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔