نوکری کا جھانسہ دے کر لائی جانے والی دو لڑکیاں بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں انسانی اسمگلنگ اور جبری جنسی استحصال کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ اسپیشل سیکورٹی یونٹ (SSU) اور مددگار 15 کی مشترکہ کارروائی کے دوران فیصل آباد اور اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والی دو نوجوان لڑکیوں کو بازیاب کرایا گیا، جنہیں فیصل آباد سے نوکری کا جھانسہ دے کر کراچی لایا تھا۔پولیس کے مطابق لڑکیوں نے اہلکاروں کے پاس پہنچ کر بتایا کہ ایک شخص انہیں فروخت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دونوں کو عائشہ خاتون کراچی لائی، جس نے بعد ازاں انہیں رفیع الدین نامی شخص کے حوالے کردیا۔ لڑکیوں کے مطابق ملزم رفیع الدین پیسے لے کر گزشتہ 10 ماہ سے ان سے جبری جنسی کام کراتا رہا۔اہلکاروں کے مطابق موقع ملنے پر دونوں لڑکیاں گھر سے فرار ہوئیں اور پولیس کے پاس مدد کے لیے پہنچیں۔ انہیں ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد ایئرپورٹ پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کراچی میں جاری انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے نیٹ ورکس کی ایک اور مثال ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں دیہی یا نواحی علاقوں سے نوجوان لڑکیوں کو روزگار یا شادی کے جھانسے میں لا کر کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں فروخت یا جسم فروشی کے دھندے پر مجبور کیا گیا۔گزشتہ برس بھی پولیس نے لیاری اور کورنگی میں کارروائی کے دوران اسی نوعیت کے گروہوں کو بے نقاب کیا تھا، جہاں کم عمر لڑکیوں کو مختلف صوبوں سے لاکر بند کمروں میں قید رکھا گیا اور انہیں بیچنے کی کوشش کی گئی۔سماجی تنظیموں کے مطابق یہ سلسلہ صرف کراچی تک محدود نہیں، بلکہ اندرون سندھ، پنجاب اور بلوچستان سے خواتین و بچوں کو اسمگل کرکے بڑے شہروں میں جبری مشقت اور جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم پولیس اور متعلقہ اداروں کے پاس ان نیٹ ورکس کے خلاف مربوط اور مستقل آپریشن کا فقدان ہے۔ ایسے واقعات کی جڑیں غربت، بے روزگاری اور خواتین کے لیے روزگار کے محفوظ مواقع کی کمی میں پیوستہ ہیں۔ اگر حکومت اور ادارے انسانی اسمگلنگ کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہ کریں تو یہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔