پنجاب سے کراچی لاکر 2 لڑکیوں کو فروخت کرنے کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
کراچی:
پنجاب سے نوکری کا جھانسہ دیکر کراچی لاکر مبینہ طور پر فروخت کی گئی دو لڑکیوں کو پولیس نے حفاظتی تحویل میں لے کر شیلٹر ہوم منتقل کردیا۔
ایئر پورٹ تھانہ کے ہیڈ محرر ظہیر کے مطابق پولیس نے ان لڑکیوں کے والدین اور پنجاب پولیس سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ پنجاب پولیس اور والدین کے کراچی پہنچنے کے بعد قانونی تقاضے مکمل کرکے ان دونوں لڑکیوں کو اہلخانہ کے حوالے کیا جائے گا۔
ترجمان مددگار 15 پولیس کے مطابق ایس ایس یو اور مددگار 15 کی مشرکہ کاوشوں سے دو لاوارث لڑکیاں حفاظتی تحویل میں لی گئیں۔ 26 ستمبر کو ایئر پورٹ کے قریب 19 سالہ طیبہ اور 17 سالہ حمیرا بھاگتی ہوئی ایس ایس یو کے جوانوں کے پاس آئیں تھیں۔
ان لڑکیوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ایک شخص انہیں فروخت کرنے جا رہا تھا۔ ایس ایس یو کی موبائل کیو آر ایف کے طور پر ایئرپورٹ کے قریب تعینات تھی جوانوں نے لڑکیوں کو حفاظتی تحویل میں لیکر مددگار 15 کو کال کی۔ مددگار 15 کے میلاپ یونٹ نے موقع پر پہنچ کر لڑکیوں کو حفاظتی تحویل میں لے کر ایئر پورٹ تھانے منتقل کیا تھا۔
طیبہ کا تعلق پنجاب کے شہر فیصل آباد اور حمیرا کا تعلق اوکاڑہ سے ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق عائشہ نامی عورت دونوں لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر کراچی لائی تھی۔خاتون نے لڑکیوں کو رفیع الدین نامی شخص کے حوالے کردیا۔ متاثرہ لڑکیوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ رفیع الدین پیسے لیکر ہم سے بدکاری کرواتا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حفاظتی تحویل میں لڑکیوں کو مددگار 15
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔