بھارتی فوج کشمیری خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، مقررین
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
"مسلح تنازعات میں جنسی تشدد” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ جنیوا میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق مقررین نے جنسی تشدد اور اجتماعی عصمت دری کے دل دہلا دینے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اب بھی دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطوں میں سے ایک ہے جہاں بھارتی فورسز اہلکاروں کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت نہتے لوگوں پر مظالم کی کھلی چھٹی حاصل ہے۔ سیمینار کی نظامت انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین (آئی ایم ڈبیلو یو) کی نمائندہ شمیم شال نے کی۔ "مسلح تنازعات میں جنسی تشدد” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ سیمینار سے لارڈ ڈنکن میک نیئر، ڈاکٹر کیری پیمبرٹن فورڈ، ہنس ایچ دوبی، سکیرولین ہینڈچین موزر، م زرین ہینس ورتھ، ریحانہ علی، سیدہ تحریم بخاری اور ڈاکٹر شگفتہ اشرف نے خطاب کیا۔
مقررین نے کنن پوشپورہ اجتماعی آبروریزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور استعمال کر رہا ہے۔ مقررین نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس پر روشنی ڈالی جو جنسی تشدد کے مقدمات کی تفتیش یا ان پر مقدمہ چلانے میں ریاست کی ناکامی کو بے نقاب کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان رپورٹس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم سے پردہ اٹھایا ہے۔ مقررین نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث کسی بھی بھارتی فوجی کو آج تک سزا نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔