ایشیا کپ کا فائنل آج پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا،گرین شرٹس پُرعزم اور جیت کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل آج پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔
ایشیائی کرکٹ ٹورنامنٹ کی 41 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور بھارت فائنل میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ گرین شرٹس جیت کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ شائقین کرکٹ میں جوش و خروش عروج پر ہے اور سب کی نظریں پاکستان کی کامیابی پر جمی ہیں۔
قومی ٹیم نے ہفتے کو فائنل سے قبل بھرپور پریکٹس کی۔ کپتان سلمان علی آغا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پر امید ہیں کھلاڑی شاندار کارکردگی دکھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایشیا کپ جیتنے آئے ہیں اور جیت کر ہی واپس جائیں گے۔”
ایونٹ میں بھارت نے پاکستان کو دونوں میچز میں شکست دی، تاہم پاکستان نے دیگر تمام ایشیائی ٹیموں کو ہرا کر اپنی پوزیشن مستحکم کی۔ اس بار ٹیم کے عزائم بلند ہیں اور جیت کی خواہش پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اب تک مختلف ٹورنامنٹس میں پاکستان اور بھارت 5 بار فائنل میں آمنے سامنے آ چکے ہیں، جن میں پاکستان نے 3 جبکہ بھارت نے 2 بار کامیابی حاصل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔