جو آنا چاہے آئے جو نہ آنا چاہے نہ آئے، کسی کی پروا نہیں، سلمان آغا کا ہینڈ شیک تنازع پر دوٹوک موقف
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
جو آنا چاہے آئے جو نہ آنا چاہے نہ آئے، کسی کی پروا نہیں، سلمان آغا کا ہینڈ شیک تنازع پر دوٹوک موقف WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
دبئی (آئی پی ایس )ایشیا کپ فائنل سے قبل دبئی میں قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بھرپور اور جارحانہ انداز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان جیت کے لیے میدان میں اترے گا اور کسی دبا کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے تیز و تند سوالات پر بھی کپتان پر اعتماد نظر آئے اور ہر گیند کو چوکے چھکے میں تبدیل کیا۔
ہینڈ شیک تنازع پر سلمان علی آغا نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ “پاکستان اور بھارت میں حالات پہلے بھی خراب رہے مگر ہاتھ نہ ملانے کی روایت کبھی نہیں رہی، یہ کرکٹ کے لیے اچھا نہیں، میرے والد کرکٹ کے بڑے دلدادہ ہیں، انہوں نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ ہاتھ نہ ملانا، ہمیشہ ہینڈ شیک ہوتا رہا ہے”۔
ایشیا کپ ٹرافی کے فوٹو شوٹ پر کپتان کا جاندار جواب تھاکہ “ہم کھیل کے اصولوں کے مطابق تیار ہیں جو آنا چاہے آئے، جو نہ آنا چاہے نہ آئے، ہمیں کسی کی پروا نہیں”۔اپنی کارکردگی پر تنقید کا اعتراف کرتے ہوئے سلمان نے کہاکہ “ہاں، میری پرفارمنس ابھی اس معیار کی نہیں جیسی کپتان کی ہونی چاہیے، اسٹرائیک ریٹ بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے لیکن میرا اور ٹیم کا فوکس صرف اور صرف ایشیا کپ جیتنا ہے”۔
بھارتی میڈیا کے شور پر کپتان نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہاکہ “مجھے بھارتی میڈیا کے تبصروں سے کوئی سروکار نہیں، دبا دونوں ٹیموں پر ہے لیکن ہم جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے”۔انہوں نے صائم ایوب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ “صائم ایوب اگلے دس سال پاکستان کا ٹاپ پرفارمر ہوگا، بیٹنگ میں فی الحال کارکردگی نہیں آرہی مگر بولنگ اور فیلڈنگ میں وہ شاندار کردار ادا کر رہا ہے اور بیٹنگ میں بھی وہ جلد چمکے گا”۔
کپتان نے جذباتی انداز میں کہا: “اگر کرکٹر میدان میں جذبات کا مظاہرہ نہیں کرے گا تو کہاں کرے گا؟ میدان سے باہر جو کچھ ہورہا ہے ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں۔ ہمارا مقصد صرف بہترین کرکٹ کھیل کر ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے نام کرنا ہے”۔ خیال رہے کہ ایشیا کپ فائنل میں پاک بھارت ٹاکرا کل دبئی میں ہوگا، 41 سال میں پہلی بار ایشیا کپ فائنل میں روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے، میچ کی تیاریوں کے لیے پاکستان ٹیم آج پریکٹس سیشن کرے گی۔ ذرائع کے مطابق فائنل سے پہلے دونوں کپتانوں کا آج ٹرافی کے ساتھ فوٹو شوٹ نہیں ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ فائنل میں بھارت کو کیسے شکست دینی ہے؟ ٹیم نے پلان بنالیا ایشیا کپ فائنل میں بھارت کو کیسے شکست دینی ہے؟ ٹیم نے پلان بنالیا گولی کی زبان سمجھنے والوں کو گولی سے سمجھائیں گے: طلال چودھری چین کو آپریشن بنیان المرصوص پر ہم سے زیادہ خوشی اور فخر ہے، پاکستان سے زیادہ جشن منایا: ترجمان صدرمملکت فلسطینیوں کے حق میں خطاب کرنے پر امریکا نے کولمبیا کے صدر کا ویزا منسوخ کردیا محسن نقوی کی ڈائریکٹر ایف بی آئی سے ملاقات، انسداد دہشت گردی اور تعاون پر زور یمن کی بندرگاہ پر ایل پی جی ٹینکر اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ بنا، وزیر داخلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔