سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کافیصلہ ، بھارت کاموقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا وہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے جو پاکستان کے حق میں سنایا گیا تھا۔ عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو بلاروک ٹوک فراہم کرنے کا پابند ہے۔
تاہم، بھارت کا مؤقف ہے کہ عالمی عدالت کو اس معاہدے پر فیصلہ سنانے کا اختیار ہی نہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، بھارت نے کبھی عالمی ثالثی عدالت کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کیا۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ 8 اگست کو عالمی عدالت کی جانب سے سنایا گیا تھا، اور اسے پیر کے روز عدالت کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس فیصلے کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو بغیر کسی رکاوٹ کے دے گا، اور اگر بھارت ہائیڈرو پاور منصوبے بناتا بھی ہے تو وہ معاہدے کی طے شدہ شرائط کے تحت ہی ہوں گے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے “حتمی” ہیں اور دونوں ملکوں پر لازمی طور پر لاگو ہوتے ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں انصاف کی حمایت کرے، کیونکہ پانی کا مسئلہ صرف قانونی نہیں، انسانی بقا سے جڑا ایک بنیادی حق بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے عالمی عدالت
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :