پاکستان کے یومِ آزادی پر مودی کا نفرت انگیز پیغام، سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
پاکستان کے یومِ آزادی پر مودی کا نفرت انگیز پیغام، سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 14 August, 2025 سب نیوز
نئی دہلی (سب نیوز)پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا نفرت انگیز پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کا نام نہ لیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
نریندر مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹوئٹ میں پاکستان کے جشن آزادی کے دن کو پارٹیشن ہاررز ریمیمبرینس ڈے کا نام دیا۔پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر مودی نے نفرت انگیز ٹوئٹ میں لکھا کہ یہ دن اس المناک دور کو یاد کرنے کا موقع ہے جب تاریخ کے ایک افسوسناک باب میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور جنہوں نے شدید تکلیف کا سامنا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ دن ان لوگوں کے حوصلے اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے بھی ہے جنہوں نے ناقابلِ تصور نقصان برداشت کیا، لیکن اس کے باوجود ایک نئی شروعات کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔
نریندر مودی نے مزید لکھا کہ تقسیم سے متاثرہ کئی افراد کو نہ صرف نئی زندگیاں ملیں بلکہ نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کیں۔بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ دن اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہمیں اپنے ملک کو جوڑنے والے ہم آہنگی کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل ذمہ داری ادا کرنی ہے۔نریندر مودی کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ایک خاتون صارف نے لکھا کہ آپ بھی اب مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ایک اور صارف نے لکھا کہ سر اب ایک ہندو- مسلم پارٹیشن تو آپ لوگ بھی کروا رہے ہو دیش میں۔
واضح رہے کہ پارٹیشن ہاررز ریمیمبرینس ڈے کی شروعات بھارت میں سال 2021 سے ہوئی جو ہر سال 14 اگست کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد 1947 کی تقسیمِ ہند کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصان، بڑے پیمانے پر ہجرت، فسادات اور متاثرہ لاکھوں لوگوں کے مصائب کو یاد کرنا ہے۔ اس دن کو منانے کا اعلان نریندر مودی نے کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا کی پاکستان کو یوم آزادی پر مبارکباد، دہشت گردی کیخلاف تعاون کی تعریف امریکا کی پاکستان کو یوم آزادی پر مبارکباد، دہشت گردی کیخلاف تعاون کی تعریف نئی آرمی راکٹ فورس کمانڈ کیا ہے، اسے بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟،تفصیلات سب نیوز پر جشن آزادی پر جاری سرکاری اشتہار سے قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر غائب، سیاسی حلقوں کی تنقید معرکہ حق میں جرأت اور جنگی مہارت کا اعتراف، فیلڈ مارشل کیلئے ہلال جرأت کا اعزاز چین کے شنزو 20 کے خلابازوں کا عملہ جلد ہی کیبن سے باہر تیسری سرگرمی انجام د ے گا چیف جسٹس کا 26ویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور کو لکھا گیا جواب پہلی بار منظرِ عام پرآگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کے یوم نفرت انگیز سوشل میڈیا
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں