پاکستان: وزیرِاعظم شہباز شریف کا آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 اگست 2025ء) پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی پی) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جناح اسپورٹس اسٹیڈیم میں بدھ کے روز منعقدہ یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک نئی آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نئی راکٹ فورس کمانڈ کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا، جو پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گی۔
انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔
تاہم خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ یہ فورس فوج میں اپنا الگ کمانڈ رکھے گی جو کسی روایتی جنگ کی صورت میں میزائلوں کی تعیناتی اور ان کے استعمال کو سنبھالنے کے لیے مخصوص ہو گی۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا، ’’یہ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد بھارت ہے۔‘‘
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت جارحیت کے لیے نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک توازن قائم رکھنے کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا،’’ہم واحد ایٹمی طاقت رکھنے والے اسلامی ملک ہیں اور مسلم اُمہ ہم سے امید رکھتی ہے۔‘‘شہباز شریف نے بھارتی ’جارحیت‘ کے خلاف پاکستانی افواج کی مربوط اور فوری ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا، ’’بھارت بھول گیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قوم کے جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شکست بھارت کو ایک ایسا سبق دے گئی جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ فوجی تصادم کا نتیجہ تین سے چار دن میں پاکستان کی فیصلہ کن فتح کی صورت میں نکلا۔
دوست ممالک کا شکریہشہباز شریف نے دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ’'بنیان مرصوص‘ کے دوران پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی، جن میں چین، سعودی عرب، ترکی، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’قوم ان سب کی عالمی سطح پر ہمارے ساتھ کھڑے ہونے پر شکر گزار ہے۔‘‘خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والے تصادم میں پاکستان نے اپنی مہم کا نام 'بنیان مرصوص‘ رکھا تھا جب کہ بھارت نے اپنی مہم کو ’آپریشن سیندور‘ نام دیا تھا۔
یہ تصادم بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں اپریل میں ایک حملے میں چھبیس افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا۔
بھارت نے اس حملے کے لیے پاکستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو مورد الزام ٹھہرایا جب کہ پاکستان نے اس کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے جنگ بندی میں مدد فراہم کی، اور امید ظاہر کی کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے حل میں کردار ادا کریں گے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ فوجی تصادم صرف تین سے چار دن میں پاکستان کی فیصلہ کن فتح کے ساتھ ختم ہوا۔ انہوں نے کہا ’’چار دن کے اندر بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا گیا،‘‘ اور مزید کہا کہ پاکستان کی افواج نے ’’’فولادی دیوار کی طرح‘‘ لڑائی لڑی۔
انہوں نے بعد از جنگ دور کو نئے پاکستان کی پیدائش قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو 'قوم کا بیٹا‘ قرار دیا۔
انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل کی قیادت کو سراہا۔انہوں نے پاکستانی جوہری سائنسدانوں اور مسلح افواج کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
سیاسی جماعتوں سے اپیلشہباز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہوں، خاص طور پر حالیہ معاشی اور عسکری کامیابیوں کے بعد۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی صورت میں مزید افراتفری برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے احتجاج کے نام پر اندرونی انتشار سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ پُرامن اختلاف رائے جمہوری حق ہے لیکن بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے نوجوانوں کو تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کے نقشِ قدم پر چلنے اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور بااختیار بنانے کے لیے ایک درجن سے زائد منصوبے شروع کیے ہیں۔
وزیرِاعظم نے کہا، ’’یہ تو صرف آغاز ہے۔ ہمیں پاکستان کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔
‘‘وزیراعظم پاکستان نے غزہ اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے وکالت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے بھی پاکستانی قوم کو یوم آزادی کے موقعے پر مبارک باد پیش کی ہے۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے شہباز شریف نے انہوں نے کہا میں پاکستان پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کی پاکستان کے نے کہا کہ کہ بھارت بھارت کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش