اسلام آباد:

پاکستان میں تیل و گیس کی دریافت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث ہوئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر سوال اٹھایا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان میں وسیع تیل کے ذخائر کے حوالے بیان کی حقیقت کیا ہے؟۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ امریکی صدر ہمیں پاکستان میں ذخائر کا بتا رہے ہیں، حکومت پاکستان کیوں نہیں بتارہی ہے؟۔

وزیر مملکت پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جواب دیا کہ پاکستان نے حال ہی میں کویت، ترکی سمیت متعدد تیل کمپنیوں کو تیل تلاش کرنے کی اجازت دی ہے۔ تیل کے ذخائر موجود ہیں مگر ابھی تیل کمپنیوں کی تلاش کا کام شروع کرلیں، اس کے بعد درست بتاسکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوئی گیس سے بڑے 3 گیس فیلڈ دریافت ہوئے ہیں ۔ حیدرآباد میں تیل و گیس کی تلاش کا کام شروع کیا جاچکا ہے۔ چین اور امریکا کے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے جو تیل و گیس کی موجودگی جلد بتادیتی ہے۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پوچھا کہ حکومت بتائے کہ ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ ایک دن پاکستان بھارت کو تیل برآمد کرسکتا ہے۔ ہمارے وزیر کہہ رہے ہیں کہ ابھی پتا چلے گا کہ پاکستان کے پاس تیل و گیس کے کیا ذخائر ہیں۔ کیا امریکی صدر بھارت کو کچھ منوانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے ایسے ٹوئٹ کررہے ہیں؟۔

پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکا کے علاوہ بھی کچھ دیگر ممالک کو تیل کی تلاش کے مواقع دیے جائیں گے؟، جس پر وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ مختلف تیل کمپنیوں کو مواقع دیے جائیں گے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان میں تیل و گیس کی امریکی صدر

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن