وزیراعظم شہباز شریف نے یوم آزادی کے 78 سال مکمل ہونے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کو ایک بار پھر میثاق استحکام پاکستان کا حصہ بننے پیش کش کی ہے۔

اسلام آباد کے جناح گراؤنڈ میں منعقدہ جشن آزادی معرکہ حق کی عظیم الشان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 14 اگست کوئی عام دن نہیں بلکہ طویل تاریخ ہے، جس کے ہر موڑ پر ہمارے بزرگوں کی قربانیاں، شہیدوں کے لہو اور آزادی کے متوالوں کے جوش اور ولولے کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم، علامہ اقبال، تحریک پاکستان کے تمام قائدین و کارکنان کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں، دور اندیش قیادت نے تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل ڈالے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جھوٹ کی بنیاد پر پاکستان پر حملہ کیا، اسے اپنی جنگی طاقت پر گھمنڈ تھا اور زیر کرنے کا سوچ رہا تھا مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ جنگیں ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں لڑی جاتیں۔ الحمد اللہ چار دن کے اندر بھارت کا غرور مٹی میں مل گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کا اُس جری فوج سے سامنا ہوا جس کی پشت پر فیلڈ مارشل، جنرل ساحد شمشاد مرزا، ظہیر بابر (ایئرچیف)، ایڈمرل نوید جیسے سالار کھڑے تھے۔ جوانوں نے بھارت کو تاریخ کو وہ سبق سکھایا جسے بھارت قیامت تک یاد رکھے گا، یہ سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان بیٹوں کو مائیں انہیں دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتی ہیں کہ بیٹا جان دے دینا لیکن وطن پر کوئی آنچ نہ آنے دینا۔

شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر قوم کا عظیم بیٹا، جس نے بھارتی جنگی جنون کے خلاف ایسی حکمت عملی بنائی جس کا اعتراف دوست دشمن کرتے ہیں، 14 اگست کو جیسے ایک نیا وطن وجود میں آیا ویسے ہی مئی میں ایک قوم سامنے آئی، ہم عہدے کرتے ہیں کہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور صلاحیتوں کو فراموش نہیں کریں گے۔

آرمی راکٹ فورس تشکیل کا اعلان

وزیراعظم نے اس موقع پر آرمی راکٹ فورس کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل جو جنگی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے، امت مسلمہ کو ہم سے امید ہے، ایٹمی سائنس دانوں، افواج کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی اور ہم انہیں دل سے شکریہ کہتے ہیں۔ ہماری ایٹمی طاقت جارحانہ سوچ نہیں، بلکہ بھارت کی جوہری جارحیت کے توازن کیلیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں دوست ممالک کا بھی بہت کردار ہے، چین، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان، عرب امارات، قطر اور ایران نے عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی۔ قوم اس پر سب کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمپ کا خلوص دل سے شکریہ جنہوں نے ٹیم کے ساتھ ملکر جنگ بندی کیلیے کردار ادا کیا، امید ہے ٹرمپ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کروائیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے اقتدار میں آنے کے بعد خستہ حال معیشت کو سنبھالنے کے بعد اقدامات کیے، جس سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا، اب ہم ترقی اور بہتری کی طرف آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں، جس کا عملی نمونہ اسٹاک مارکیٹ کا ریکارڈ بلندی پر جانا اور شرح سود میں کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی و اقتصادی کامیابی سیاسی و عسکری ٹیم پاکستان کے درست فیصلوں کی وجہ سے ممکن ہوئی، آج عالمی ادارے بھی توثیق کررہے ہیں کہ پاکستان نئے معاشی دور میں داخل ہورہا ہے مگر یہ صرف آغاز ہے ہمیں شبانہ روز محنت کرنا ہے تاکہ ترقی اور خوشحالی کا خواب جلد سے جلد شرمندہ تعیبر ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ، جنہوں نے سول حکومت کے ساتھ تعاون کیا اور نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ نیشنل فنانس پلان تشکیل دیا، امریکا کے ساتھ ٹریڈ معاہدے کیلیے جہاں حکومتی ٹیم نے  محنت کی وہیں فیلڈ مارشل نے کلیدی کردار کیا۔

انہوں نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کی بدولت 100 ارب روپے کی رقوم جمع ہوئیں، اوور سیز پاکستانی بھی اس عظیم مشن میں کردار ادا کررہے ہیں، رواں سال 38.

3 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلات زر بھجوا کر ملکی معیشت کو مضبوط کیا، سب کا شکریہ، بیرون ملک میں رہنے والے پاکستان کے عظیم سفیر ہیں۔

غزہ اور کشمیر کی حمایت

وزیراعظم نے کہا کہ آزادی اور معرکہ حق کا جشن مناتے ہوئے اُن لوگوں کا سوچیں جو محکومی میں جکڑے ہوئے ہیں، غزہ اور کشمیر میں بے گناہ لوگوں کا خون بہتا ہے، پاکستان ہمیشہ اصولی اور غیر متزلزل مؤقف کے ساتھ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ  آج انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے، پاکستان اُس وقت تک اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا جب تک کشمیر اور فلسطین کے بھائیوں بہنوں کو حقوق نہیں مل جاتے۔

اجتماعی سوچ اپنائیں، میثاق استحکام پاکستان کا حصہ بننے کی دعوت

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی تقسیم، ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر پاکستان کیلیے اجتماعی سوچ اپنائیں، عظیم دن کی مناسبت سے میں تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، اسٹیک ہولڈرز کو میثاق استحکام پاکستان کا حصہ بننے کیلیے دعوت دیتا ہوں۔ یہ میثاق معیشت کی بحالی کا منصوبہ نہیں بلکہ وسیع تر قومی منصوبے کی بنیاد ہے، ہمیں دنیا کو دکھانا ہے اختلافات اپنی جگہ مگر ہم ملک کیلیے ایک ہیں۔

’کسے نئے فتنے کو جگہ نہیں ملے گی‘

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں نوے ہزار پاکستانی شہید ہوئے، عام شہری، 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، کسی نئے فتنے کو جگہ نہیں دیں گے، احتجاج کا حق ہے مگر جلاؤ گھیراؤ کا نہیں، تنقید کا حق ہے مگر گالی اور توہین کا نہیں، سیاست کا حق ہے مگر ریاست کے خلاف بغاوت کا حق نہیں، ایسے فتنے کو کسی صورت بھی پنپنے نہیں دیں گے۔

وزیراعظم نے آخر میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نواجون ہی تحریک آزادی کے سپاہی تھے جنہوں نے قائد اعظم کے پیغام کو ہر گلی کوچے تک پہنچایا، آج بھی قوم کی امیدیں نوجوانوں سے ہیں، ملک کے کروڑوں بچے اور بچیاں تعمیر وطن کے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم، روزگار کیلیے درجنوں منصوبے شروع کردیے گئے ہیں، آپ فائدہ اٹھائیں اور محنت کر کے پاکستان کو خود کفیل ریاست بنائیں گے، اب ہمیں عظیم مستقبل کی طرف بڑھنا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے پاکستان کے فیلڈ مارشل کرتے ہوئے کا شکریہ کے ساتھ فتنے کو ہے مگر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار