شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کرفیو نافذ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
شمالی وزیرستان:
خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں 9 اگست کی صبح 5 بجے سے سوموار 10 اگست کی شام 7 بجے اور جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں 9 اگست کو کرفیو نافذ کر دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر نے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔
شمالی وزیرستان کے ضلع بھر میں کرفیو کے نفاذ سے متعلق جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کے دوران عوام سڑکوں سے دور رہیں۔
کرفیو کے حوالے سے کہا گیا کہ اس دوران سیکیورٹی فورسز کی نقل و حمل رہے گی اور کرفیو کا مقصد فورسز کی نقل و حمل کے دوران شرپسندوں کی کسی بھی کارروائی میں شہریوں کی جانوں اور سیکورٹی فورسز کو محفوظ بنانا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ اس دوران صرف ناگزیر صورت میں متعلقہ ضلعی یا سیکیورٹی فورسز حکام کی اجازت سے اصل شناختی دستاویزات پیش کرنے پر نقل و حرکت کی اجازت دی جائے گی۔
جنوبی وزیرستان میں 9 اگست کو کرفیو
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر 9 اگست 2025(بروزہفتہ) کو صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل میں کرفیو نافذ رہے گا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ کرفیو کے دوران ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی اور مذکورہ حدود میں تمام بازاراورمارکیٹس بند رہیں گے۔
شہریوں سے کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل راستوں پر داخلہ سختی سے منع ہے:
▪ خمرنگ-رغزئی - شولام تا وانا
▪وانا-تیارزہ گیٹ-کرب کوٹ-تنائی - عزیز آباد چوک تا درگئی پل
انتظامیہ کی جانب سے اہم ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں پولیس یا سیکیورٹی فورسز کی اجازت کے ساتھ، شناختی کارڈ اور کاغذات جمع کروا کر سفر جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح سیکیورٹی فورسز کی گاڑی دیکھ کر گاڑی کو 100 میٹر فاصلے پر سڑک سے نیچے اتار لیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان سیکیورٹی فورسز کرفیو کے فورسز کی
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں