بھارت آبی معاہدے سے یک طرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف ۔ فوٹو فائل
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دشمن پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے، بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے سے نہیں نکل سکتا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے وسائل سے دیامر بھاشا اور دیگر منصوبے مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، اپنے پانی کے ذخائر کی صلاحیت کو بڑھائیں گے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کثیر المقاصد اہم قومی ادارہ ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دارالحکومت اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا ہے، جہاں ان کا ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور دیگر حکام نے استقبال کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب نے بہت نقصان پہنچایا۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور مکانات تباہ ہوئے، خطرات سے آگاہی کے نظام کے حوالے سے بھی این ڈی ایم اے کا اہم کردار ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بر وقت معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات قابلِ تعریف ہیں، 2022ء کے سیلاب کے بعد ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ خطرات سے آگاہی کے نظام کے حوالے سے بھی این ڈی ایم اے کا اہم کردار ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوات میں بہت قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، سیاست سے بالاتر ہو کر ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہیے، سانحہ سوات پر پوری قوم اشک بار تھی، این ڈی ایم اے سانحہ سوات کے تناظر میں رپورٹ مرتب کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔