دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، قصور کے درجنوں دیہاتوں سے زمینی رابطہ منقطع
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
لاہور:
دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ضلع قصور کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، جب کہ درجنوں علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔
پی ڈی ایم اے قصور کے مطابق گنڈا سنگھ والا ہیڈ سے پانی کا اخراج 75 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
آج صبح 6 بجے دریائے ستلج کی کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح 19.
متاثرہ علاقوں میں بھکی ونڈ، واڑہ حاکو والا، ایمن نگر، بستی بنگلہ دیش، اور چندہ سنگھ شامل ہیں، جہاں کی سڑکیں اور راستے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔
کھڑی فصلیں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جس سے کسانوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے آمد و رفت ممکن بنائی گئی ہے جبکہ فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں طبی سہولیات، راشن، اور مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر قصور کے مطابق ضلعی انتظامیہ پی ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان کی مکمل مدد کرے گی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 کی جانب سے بوٹ ٹرانسپورٹیشن سروس شروع کر دی گئی ہے، تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
ضلعی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں اور اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قصور کے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔