بھارت:کیمیکل فیکٹری میں دھماکا،12 افراد ہلاک،34 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست تلنگانہ میں کیمیکل فیکٹری کے ری ایکٹر میں دھماکے سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 12افراد ہلاک اور 34زخمی ہوگئے ۔ واقعہ سیگاچی انڈسٹریز نامی کیمیکل پلانٹ کے ری ایکٹر میں پیش آیا، جہاں اچانک دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کردی گئیں، تاہم شعلوں کی شدت کے باعث فائر بریگیڈ کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں زہریلے دھویں یا دیگر خطرناک کیمیکلز کے اخراج کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں ناکافی حفاظتی انتظامات کے باعث صنعتی حادثات معمول بن چکے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق صرف 2003 ء میں صنعتی حادثات کے دوران 47 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں مختلف صنعتی حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں شامل ہیں۔ بھارت میں کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات کے دوران نقصان اور اموات کو اکثر کم رپورٹ کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی محنتی تنظیم (آئی ایل او) نے بھی اس کی نشاندہی کی ہے۔ یاد رہے کہ 1984 ء میں بھوپال میں امریکی کیمیکل کمپنی یونین کاربائن سے زہریلے دھویں کے اخراج سے 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے۔
بھارت: تلنگانہ کی کیمیکل فیکٹری میں دھماکے کے بعد ریسکیو اہل کار کارروائی کررہے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔