Express News:
2026-06-03@04:37:22 GMT

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دے دیا، انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان ایک غیر معمولی انسداد دہشت گردی شرکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی موجودہ مدت صدارت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت دیگر دیرینہ تنازعات کو حل کرانے میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 پاکستان ایک امن پسند اور ذمے دار ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان ایسی ریاستیں جو دہشت گردوں کی سرپرستی کرتی ہیں،ان کے خلاف بھی آواز اٹھاتا ہے جب کہ اندرون ملک پاکستان کی افواج دہشت گردوں سے برسرپیکار ہیں۔

امریکی جنرل مائیکل ایرک کی یہ رائے ایک حساس وقت پر سامنے آئی ہے، جب بھارت نے پہلگام حملے کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا، جس کا کرارا جواب ملنے کے بعد بھارتی حکومت نے امریکا کے منت ترلے کرکے فوری جنگ بندی کرائی تاہم اب نریندر مودی الیکشن میں کامیابی کے لیے جھوٹے اور من گھڑت دعوے کرتے نظر آرہے ہیں جب کہ ایک بھارتی وفد دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے غرض سے مختلف ممالک میں جا رہا ہے، لیکن اسے ہر جگہ منہ کی کھانی پڑی ہے۔

 جنرل کوریلا کی سربراہی والی امریکی سینٹرل کمانڈ، جس کا صدر دفتر فلوریڈا میں ہے، پاکستان اور افغانستان سمیت مغربی، وسطی اور جنوبی ایشیا کے 21 ممالک میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے، لہٰذا امریکی جنرل کا بیان اہمیت کا حامل ہے جو پاکستان کو کلین چٹ دیتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف بطور فرنٹ لائن اسٹیٹ اس کی خدمات اورکاوشوں کو سراہتا نظر آتا ہے۔ یہ پاکستان کی سفارتی دنیا میں ایک بڑی کامیابی ہے اور ایک اور ثبوت ہے کہ دنیا اب پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑی ہے، پاکستان آج بھی  حالت جنگ میں ہے، ان شدت پسندوں کو اسلحہ اور ٹریننگ کس نے دی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا ایجنڈا ہمیشہ سے کس ملک کا رہا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، اس کے باوجود بھارت ہمیشہ اس کوشش میں رہا کہ دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ سفارتی طور پر وہ باقی دنیا سے کٹ جائے۔ بھارتی حکومت اپنے ملک میں خود ہی دہشت گردی کے واقعات کروا کے اس کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیتی ہے۔

دوسری طرف بھارت شدت پسندوں کے ذریعے پاکستان کے اندر دہشت پھیلانے اور معصوم بچوں، عورتوں کے قتل میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات پیش آئے ہیں، ان واقعات کے واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کی ایجنسی شدت پسندوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔ پہلگام واقعہ، جو 22 اپریل 2025کو بھارتی زیر قبضہ کشمیر کے علاقے بائیساران وادی میں پیش آیا، اس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، اس حملے کی ذمے داری ’’کشمیر ریزسٹنس‘‘ نامی ایک گروہ نے قبول کی، جس نے اس اقدام کو کشمیر میں غیر مقامی باشندوں کی آبادکاری کے خلاف احتجاج کے طور پر پیش کیا۔

بھارتی حکومت کسی بھی دہشت گرد کو مارنے یا گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ بھارتی حکومت نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال شدہ قرار دیا۔ ماہرین دفاع اور تجزیہ کاروں نے اس واقعے کو بھارت کی جانب سے ’’فالس فلیگ‘‘ آپریشن کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور کشمیر میں اپنی پالیسیوں سے توجہ ہٹانا ہو سکتا ہے۔ بھارت نے پہلے سے ہی پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی حکمت عملی تیار کی تھی۔ پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمے داروں کا تعین ہو سکے۔ لیکن بھارت نے اس پیشکش کا جواب ناں میں دیا۔

 پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے ، لیکن اس لعنت کا مکمل خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب عالمی سطح پر تعاون اور داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ پاکستان دہشت گرد ریاست نہیں ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ قومی انسداد دہشت گردی حکمت عملی (NIFTAC) کا قیام، پاکستان نے 2025میں نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (NIFTAC) قائم کیا ہے، جو ملک بھر کی 50 سے زائد وفاقی اور صوبائی ایجنسیوں کو یکجا کرتا ہے۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔

 ادھر پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی موجودہ مدت صدارت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت دیگر دیرینہ تنازعات کو حل کرانے میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے واشنگٹن میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ محکمہ خارجہ کی سینئر اہلکار انڈر سیکریٹری برائے سیاسی امور، ایلیسن ہوکر نے حالیہ دنوں پاکستانی پارلیمانی وفد سے ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے، جنھوں نے بھارتی جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اور مودی حکومت کے اشتعال انگیز بیانات پر پاکستان کا موقف واضح انداز میں پیش کیا۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے عسکری حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین بننے والی جنگی صورتحال کا خاتمہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر 10مئی کو ہوا۔ امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا بیانات اور تقاریر میں مسئلہ جموں کشمیر کا بارہا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی اظہار کیا کہ وہ مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کرنے پر تیار ہیں۔

حکومت پاکستان نے صدر ٹرمپ کی اس پیش کش پر خصوصی شکریہ ادا کیا ہے، جب کہ بھارتی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے بات ہوگی تو پھر ’پی او کے‘ یعنی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے متعلق ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پانی اور خون اکٹھے نہیں بہہ سکتے، دہشت گردی اور بات چیت بھی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ تاہم ٹرمپ کے دعوؤں کی تردید نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف جنگ بندی پر ٹرمپ کی مداخلت کا کلیدی کردار ہے، بلکہ وہ مذاکرات کے حوالے سے بھی مستقبل میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر پاکستان کی جانب سے بھی شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی جموں کشمیر میں سیز فائر لائن کے ہر دو اطراف آزادی پسند اور الحاق نواز سیاسی کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ایک بار پھر مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے امریکی صدر سے امیدیں لگانا شروع کر دی ہیں۔ قوم پرست تنظیموں کے کچھ حصوں کی جانب سے اقوام متحدہ اور امریکا سے مسئلہ جموں کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے بھی اپیلیں کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

ایک طرف بھارت ہے۔ 2019 میں مودی حکومت نے ہر بین الاقوامی ضابطے اور اخلاقی قدر کو پامال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے اسٹیٹس کو بدل ڈالا، جب کہ اقوامِ متحدہ اس کو متنازع خطہ مان چکا ہے اور اس کے حل کو پاکستان اور بھارت کے اتفاقِ رائے سے مشروط کردیا ہے۔ استصوابِ رائے کو اہلِ کشمیر کا حق قرار دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ وہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کے بارے میں یکسو ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا سب جھگڑے طے کروا کر ان سے نکل آئے، پاکستان توقع رکھتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے تاکہ پونے دو ارب کی آبادی امن و سکون اور خوشحالی کا سفر طے کرسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کشمیر کے حل کے لیے دہشت گردی کے خلاف مسئلہ جموں کشمیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جموں کشمیر کے بھارتی حکومت میں پاکستان پاکستان اور پاکستان پر امریکی صدر پاکستان کی پاکستان نے پاکستان کو پاکستان ا ٹرمپ کی رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا