مظفرآباد کا رتا قلعہ، ساڑھے 400 سال پرانا تاریخی ورثہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
مظفرآباد کے مرکز میں واقع لال قلعہ، جسے مقامی زبان میں ’رتا قلعہ‘ بھی کہا جاتا ہے، ساڑھے 400 سال پرانا تاریخی قلعہ ہے۔ اس کی بنیاد 1549ء میں چک خاندان نے رکھی، جبکہ بعد ازاں اسے مظفرآباد کے بانی سلطان مظفر خان نے مکمل کروایا۔
یہ قلعہ ڈوگرہ اور سکھ حکمرانوں کے دور میں سیاسی اور دفاعی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ 3 اطراف سے دریا سے گھرا یہ قلعہ حسنِ فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے، جس میں دریا کے گول پتھروں اور ہاتھ سے بنی پختہ اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔
قلعے میں کئی زیرِ زمین کمرے، کال کوٹھڑیاں اور 3 بڑے صحن موجود ہیں۔ ماضی میں اس کا رقبہ 59 کنال تھا، جو کم ہو کر اب تقریباً 15 کنال رہ گیا ہے۔
یہ عظیم قلعہ موسمیاتی اثرات جیسے 1992 کے سیلاب اور 2005 کے زلزلے کے باوجود آج بھی اپنی تاریخی شناخت قائم رکھے ہوئے ہے۔
اس قلعے کے بارے میں مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔