جماعت اسلامی بنگلہ دیش حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا آج پارٹی کے مرکزی دفتر ڈھاکا میں اجلاس ہوا، جس کی صدارت امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا جس میں حالیہ دنوں میں بیرونِ ملک ہونے والی ایک مشترکہ پریس بریفنگ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
لندن ملاقات پر جماعت کا مؤقف
جماعت نے 13 جون کو لندن میں بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان اور عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری تناظر میں ایسی ملاقاتوں کو عمومی اور معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
جماعت نے تسلیم کیا کہ ڈاکٹر یونس مختلف سیاسی جماعتوں سے انفرادی اور اجتماعی طور پر ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
مشترکہ پریس بریفنگ پر نکتہ چینی
تاہم، جماعتِ اسلامی نے لندن ملاقات کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس بریفنگ اور جاری کردہ بیان کو بنگلہ دیش کی سیاسی روایت سے انحراف قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور، رہائی کا حکم
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ چیف ایڈوائزر کا بیرونِ ملک کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ مشترکہ طور پر میڈیا کے سامنے آنا، ان کے غیر جانبدارانہ کردار پر سوالیہ نشان ہے۔
جماعت کے مطابق یہ زیادہ موزوں ہوتا اگر ڈاکٹر یونس پہلے ملک واپس آتے اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت کرتے، اس کے بعد ہی کوئی عوامی مؤقف اختیار کرتے۔
انتخابات سے متعلق جماعت کا مؤقف
بیان میں یاد دہانی کروائی گئی کہ جماعت کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے اپریل میں ایک غیر ملکی مشن کے ساتھ ملاقات میں جماعت کا مؤقف پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ قومی انتخابات رمضان المبارک سے قبل، فروری 2026 تک منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
حکومتی حیثیت میں غیر جانبداری لازم
جماعت نے زور دیا کہ کسی بھی حکومتی عہدے دار، خصوصاً چیف ایڈوائزر کا کسی ایک جماعت کے ساتھ مل کر مشترکہ پریس بریفنگ کرنا اخلاقی طور پر نامناسب ہے۔
ایسے اقدامات نے عوام میں آنے والے انتخابات کی شفافیت اور غیر جانب داری پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ قومی سیاسی فیصلے کسی ایک جماعت سے مشورے کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہئیں، خصوصاً ایسے ملک میں جہاں سیاسی تنوع موجود ہو۔
چیف ایڈوائزر سے وضاحت کا مطالبہ
جماعت نے عبوری حکومت سے غیر جانبداری برقرار رکھنے اور تمام سیاسی جماعتوں کو **برابر کا میدان فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ساتھ ہی چیف ایڈوائزر سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے کردار اور ارادوں کی وضاحت کریں تاکہ انتخابی عمل سے متعلق عوامی شکوک و شبہات دور کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش انتخابات جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹریونس طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش انتخابات جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹریونس جماعت اسلامی بنگلہ دیش مشترکہ پریس بریفنگ چیف ایڈوائزر سیاسی جماعت جماعت کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔