اسرائیلی حملے قابل مذمت، ایران کو جوابی کارروائی کا پورا حق ہے، عوامی ورکرز بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اپنے بیان میں عوامی ورکرز پارٹی نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت اور ایرانی عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی ورکرز پارٹی بلوچستان نے امریکی آشیرباد اور اتحادی ملکوں کی سہولت کاری کے ساتھ ایران پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے ایک بیان میں اسرائیلی حملے کو خطہ کا امن تباہ کرنے اور سامراج کے گریٹ گیم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران پر اسرائیلی حملہ دراصل پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے کھیل کا حصہ ہے۔ ایشیائی ممالک کی بیداری، آزادی، امن اور ترقی کی راہ پر کامیاب پیشرفت نے امریکی سامراج اور دیگر رجعتی عناصر کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے اور اب نو آبادیاتی باقیات ایک حقیقی آزاد دنیا کی تشکیل میں رکاؤٹ ڈالنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد کھلی جارحیت پر اتر آئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے ایران کو جوابی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے اور عوامی ورکرز پارٹی کی تمام ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی ورکرز
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔