Jasarat News:
2026-07-24@09:39:13 GMT

ہیٹ ویو: خطرہ یا انتباہ؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

ہیٹ ویو: خطرہ یا انتباہ؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب محض ایک سائنسی اصطلاح یا عالمی ماحولیاتی بیانیے تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔ ہمارا ملک اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی لپیٹ میں ہے، اور یہ تبدیلیاں اب خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکی ہیں۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، غیر متوقع موسم، اور بار بار آنے والی شدید ہیٹ ویوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم ایک ماحولیاتی ہنگامی صورتحال میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس بار جو گرمی کی شدت دیکھی گئی، وہ صرف ناقابل برداشت نہیں بلکہ ناقابل بیان ہے۔ اس کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ چرند پرند، جانور، فصلیں، درخت، حتیٰ کہ پانی کے ذخائر بھی اس شدت سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انسانی معمولاتِ زندگی، معاشی سرگرمیاں، بچوں کی تعلیم، اور بزرگوں کی صحت — سب کچھ اس ماحولیاتی عدم توازن کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان شدید گرمی میں کھیتوں میں جانا محال سمجھتے ہیں، اور شہری علاقوں میں مزدور طبقہ جلتے سورج تلے روزگار کے لیے جدوجہد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وقت سنجیدگی کا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اب صرف موسم کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ اپنی غفلت کے انجام پر کھڑے ہیں۔
پاکستان اس وقت جس موسمیاتی بحران سے گزر رہا ہے، وہ محض درجہ حرارت کے اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک اجتماعی ناکامی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے نسبتاً معتدل شہروں میں گرمی کی شدت نے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا ہولناک ہندسہ عبور کیا، جو نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔ یہ درجہ حرارت کسی ایک روز کی شدت نہیں بلکہ ایک مستقل رجحان بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافہ صرف قدرتی عوامل کی وجہ سے نہیں ہو رہا، بلکہ اس میں سب سے بڑا کردار خود انسانی سرگرمیوں کا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اپنی روزمرہ زندگی کو اس انداز میں ڈھال لیا ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچانا ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔ ہماری شہری ترقی کا ماڈل ماحولیاتی
تباہی کی مثال بنتا جا رہا ہے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، کنکریٹ کا پھیلاؤ، گرین ایریاز کا سکڑ جانا، اور توانائی کا غیر دانشمندانہ استعمال، یہ سب عوامل ہمارے شہروں کو ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ‘‘ میں تبدیل کر چکے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہر، جہاں کبھی راتیں خنک ہوا کرتی تھیں، اب رات گئے بھی گرمی کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ ہوا میں نمی کم، درجہ حرارت زیادہ، اور دھوپ میں جلن کا احساس، یہ سب موسمیاتی تبدیلی کی وہ علامتیں ہیں جنہیں ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔
حکومتی سطح پر بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ موسمیاتی ایمرجنسی کو اب تک سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ اربن پلاننگ سے لے کر پبلک ہیلتھ سسٹمز تک، ہر شعبے میں ایک واضح حکمت عملی کی کمی ہے۔ مقامی حکومتیں عارضی شیلٹرز یا پانی کی سبیلیں قائم کرنے تک محدود ہو چکی ہیں، جبکہ قومی سطح پر موسمیاتی پالیسی یا تو کاغذی حد تک موجود ہے یا مکمل غیر موثر۔ نہ کوئی مضبوط قانون سازی ہے، نہ ہی اس پر عمل درآمد۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بیش تر حکومتی منصوبے یا تو فائلوں کی نظر ہو جاتے ہیں یا سیاسی نمائش کی نذر۔ لیکن سارا الزام حکومت پر ڈالنا بھی غیر منصفانہ ہوگا، کیونکہ عام شہری بھی اس تباہی میں برابر کا شریک ہے۔ ہمیں نہ تو توانائی کے کفایت شعاری کا شعور ہے، نہ پانی بچانے کی سنجیدگی، نہ ہی درختوں کی اہمیت کا ادراک۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو گرمی سے ستائے ہوئے ماحول میں خود سے ایک درخت لگا کر اس زمین کو کچھ لوٹانے کا سوچتے ہیں؟ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرکے ایندھن کے دھویں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں؟ زیادہ تر شہری موسمیاتی مسئلے کو محض خبروں کا ایک عنوان سمجھتے ہیں، جس سے ان کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ یہی لاعلمی اور بے حسی ہمیں اس مقام تک لے آئی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اپنی اپنی سطح پر موثر اور مستقل اقدامات اٹھائیں۔ زمینی سطح پر فوری طور پر ہر محلے، گاؤں اور شہر میں ہیٹ ویو الرٹ سسٹم قائم کیا جائے، مقامی سطح پر درخت لگانے کی مہم کو صرف تشہیر تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہر شہری کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے گھر یا گلی میں کم از کم ایک پودا لگائے اور اس کی دیکھ بھال کرے۔ پانی کے ضیاع پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں، اور گھروں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام متعارف کروائے جائیں۔ سرکاری اور نجی اداروں میں شمسی توانائی کا استعمال لازمی قرار دیا جائے تاکہ بجلی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
طویل مدتی حل کے طور پر حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی کو قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر لینا ہوگا۔ اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ماحولیاتی تحفظ کو شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل اس خطرے کو سنجیدگی سے سمجھے۔ اربن ڈیولپمنٹ پالیسی میں گرین زون، پارک، اور سبز چھتیں شامل کی جائیں، اور ایسی عمارتیں تعمیر کی جائیں جو ماحولیاتی اعتبار سے کم نقصان دہ ہوں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید، سستا اور ماحول دوست بنایا جائے تاکہ گاڑیوں کا بے ہنگم استعمال کم ہو اور فضا میں زہریلی گیسوں کا اخراج کم ہو۔
عام شہریوں کو بھی اپنی ذمے داریاں نبھانا ہوں گی۔ ہر فرد اپنے طور پر توانائی کی بچت، پانی کی حفاظت، اور صفائی کا خیال رکھے۔ گھروں میں غیر ضروری برقی آلات کا استعمال کم کیا جائے، کھلے مقامات پر شجرکاری کو فروغ دیا جائے، اور ضعیف افراد، بچوں اور بیماروں کا خاص خیال رکھا جائے۔ شدید گرمی کے دنوں
میں ہم سب پر لازم ہے کہ نہ صرف خود کو محفوظ رکھیں بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں۔ خاص طور پر مزدور، گھریلو ملازمین، اور راہ چلتے مسافروں کو پانی، سایہ اور آرام کی سہولت دیں۔ چھوٹے اقدامات، جیسے اپنے دروازے پر ایک مٹی کا گھڑا رکھ دینا، کسی کو گرمی میں بیٹھا دیکھ کر چھتری دینا، یا کسی بزرگ کو پانی کی بوتل دینا، ایک نئی روایت کا آغاز بن سکتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عملی قدم نہ اٹھایا، تو آنے والا کل ہمیں محض گرمی سے نہیں، بلکہ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم کر دے گا۔ گرمی اب موسم کا نام نہیں رہا۔ یہ ایک تنبیہ ہے، ایک انتباہ ہے، اور اگر ہم نے اسے نظر انداز کیا تو کل کے پاکستان میں سانس لینا بھی شاید عیاشی سمجھا جائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں، اپنی زمین سے وفا کریں، اور اس زمین کو آنے والی نسلوں کے لیے زندہ رکھنے کی جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کیا جائے تک محدود کی شدت

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ